کہانی وہ ہوتی ہے جو حیرت میں ڈال دے، غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال
نئی دہلی،3 فروری(ہ س)۔ گزشتہ روز غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست میں جی ڈی چندن کی کہانیوں کے ہندی ترجمے کے ہندی ایڈیشن کا اجرا عمل میں آیا۔ مشہور صحافی گربچن داس چندن کی کہانیوں کو مشہور افسانہ نگار مرحوم انجم عثمانی نے ترتیب دیا تھا جسے غالب اکیڈ
کہانی وہ ہوتی ہے جو حیرت میں ڈال دے، غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال


نئی دہلی،3 فروری(ہ س)۔ گزشتہ روز غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست میں جی ڈی چندن کی کہانیوں کے ہندی ترجمے کے ہندی ایڈیشن کا اجرا عمل میں آیا۔ مشہور صحافی گربچن داس چندن کی کہانیوں کو مشہور افسانہ نگار مرحوم انجم عثمانی نے ترتیب دیا تھا جسے غالب اکیڈمی نے 2017 میں شائع کیا تھا۔اسی مجموعے کو ڈاکٹر رخشندہ روحی نے ہندی میں ترجمہ کیا اسے غالب اکیڈمی نے جنوری2026میں شائع کیا ۔جس کا اجرا غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست میں ہوا۔ نشست کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ چندن صاحب کی کہانیوں کا ترجمہ رخشندہ روحی نے ہندی میں کیا ہے بہت اچھا ترجمہ ہے۔ کہانی وہ ہوتی ہے جو حیرت میں ڈال دے کچھ کہانیاں عمر بھر یاد ر ہتی ہیں۔کچھ نیند لانے والی کہانی ہوتی ہے۔کہانی وہ ہوتی ہے جو نیند حرام کردے۔ پہلے ہندی کی کتابیں اردو میں اسی مقصد سے چھاپی جاتی تھیں کیوں کہ اردو سب جانتے تھے۔ہندو اورسکھ مذہب کی کتابیں بھی اردو میں زیادہ پڑھی جاتی تھیں۔ اس موقع پر اردو کے مشہور افسانہ نگار خورشید حیات نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رخشندہ روحی لسانی اتحاد پسند ہیں۔آج کی نشست میں پڑھی گئی کہانیاں بہت متاثر کرنے والی ہیں۔اس موقع پر رخشندہ روحی نے چندن صاحب کی کہانی جسونت سنگھ پڑھ کر سنائی۔کہانی اور ترجمے کو پسند کیا گیا۔اس موقع پر مشہور صحافی سہیل انجم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چندن صاحب بنیادی طور پر صحافی تھے اور صحافت کے محقق تھے۔جام جہاں نما کتاب ان کی تحقیق کا نادر نمونہ ہے۔اس موقع پر پروفیسرابو بکر عباد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چندن صاحب اردو کے مشہور صحافی اور اچھے افسانہ نگار تھے ان کے اردو افسانوں کو رخشندہ روحی نے بہت خوبصورت انداز میں ترجمہ کیا۔اردو کے الفاظ کوبھی برقرار رکھا اور ہندی کے دلچسپ اور شریں الفاظ کو بھی اپنے ترجمے میں شامل کیا۔یہ ان کی ترجمہ نگاری کا فن ہے۔ اسی موقع پر قاضی راغب نے کہا کہ رخشندہ روحی اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے اس ترجمے میں دونوں زبانوں کے الفاظ استعمال کیے ہےں۔ اس موقع پر پروین ویاس نے کہا کہ ہرزبان کا ترجمہ الگ ہوتا ہے۔رخشندہ روحی نے کہانیوں کا اچھا ترجمہ کیا ہے۔اس موقع پر اردو کی بزرگ اور مشہور افسانہ نگار ڈاکٹر نعیمہ جعفری نے اپنی مو¿ثر کہانی نام گم جائے گا پڑھی جسے سامعین نے پسند کیا۔اس موقع پر ہندی کے مشہور افسانہ نگار کوی کویشور نے اپنی کہانی جیت اور جسّی میں ایک فوجی کی کہانی پیش کی۔ سیما کوشک نے سب کا بھلا کرنے والا اور سنجیو دوانے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو،شگفتہ سلیم نے خواہشوں کا آشیانہ،ثروت عثمانی نے اندھیرا اور سرتاج سبینہ نے انجام زندگی کے نام سے کہانیاں پیش کیں۔اس موقع پر چشمہ فاروقی نے آج کا نوجوان با اختیار ہے یا دباﺅ کا شکار کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا۔اس موقع پرڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹر شاداب تبسم، نرگس سلطانہ، جاوید حسن،سرفراز احمد فراز، ابو نعمان،کمال الدین، شری کانت کوہلی،پون کمار تومر اور دیگر معزز حضرات نے نشست میں شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande