تلنگانہ میں چار ماؤنوازوں نے خودسپردگی کی
حیدرآباد، 24 فروری (ہ س)۔ ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماو¿سٹ) کے چار سینئر کیڈرس نے منگل کو تلنگانہ میںخودسپردگی کر دی اور ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) شیودھر ریڈی کی موجودگی میں مرکزی دھارے میں واپس آگئے۔ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈ
TELANGANA-FOUR-MOIST-SURRENDER


حیدرآباد، 24 فروری (ہ س)۔ ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماو¿سٹ) کے چار سینئر کیڈرس نے منگل کو تلنگانہ میںخودسپردگی کر دی اور ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) شیودھر ریڈی کی موجودگی میں مرکزی دھارے میں واپس آگئے۔

پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں میں پولٹ بیورو کے رکن ٹپیری تروپتی عرف دیوجی عرف کما دادا، مرکزی کمیٹی کے رکن ملاراجی ریڈی عرف سنگرام عرف رنگارام، تلنگانہ ریاستی کمیٹی کے سکریٹری بڑے چوکا راو¿ عرف دامودر عرف جگن اور ریاستی کمیٹی کے رکن نون نرسمہا ریڈی عرف گنا دادا کے علاوہ شامل ہیں۔

ڈی جی پی شیودھر ریڈی نے اس موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ دوبرسوں میں کل 591 ماو¿نواز مرکزی دھارے میں واپس آئے ہیں۔ ان میں چار سینٹرل کمیٹی ممبران، 16 اسٹیٹ کمیٹی ممبران، 26 ڈویژن کمیٹی ممبران اور سکریٹری ، 85 اے سی ایس اور 60 دیگر فعال رکن شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ میں پیدا اور پرورش پانے والے 11 ماو¿سٹ ابھی تک روپوش ہیں، جن میں سے کچھ مذاکرات کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ جلد ہی ہتھیار ڈال دیں گے۔

ڈی جی پی نے بتایاکہ ریاست کے وزیر اعلی ریونت ریڈی کی اپیل پر کئی ماو¿نوازوں نے تشدکا راستہ ترک کرنے اور عوامی زندگی میں واپس آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کو فوری طور پر اعلان کردہ انعام اور بحالی پیکج فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسی واضح ہے: ہتھیار چھوڑنے والوں کو باعزت زندگی دی جائے گی۔

اس موقع پر، ڈی جی پی نے اسپیشل انٹیلی جنس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سمیتی اور ان کی ٹیم کو ہتھیار ڈالنے میں ان کے کلیدی کردار کے لیے سراہا، اور انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل وجے کمار کو بھی مبارکباد دی۔

پولٹ بیورو کے رکن دیوجی عرف ٹپیری تروپتی کے ہتھیار ڈالنے کو ماو¿نواز تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ تروپتی امبیڈکر نگر، کوروٹلا، جگتیال ضلع کا رہنے والا ہے۔ وہ 1983 میں ماو¿نواز تحریک میں شامل ہوا اور آہستہ آہستہ تنظیم کے اندر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوا۔ اس نے جنوبی ہند میں اہم کردار ادا کیا۔

تروپتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی انتہائی مطلوب فہرست میں شامل ہے۔ وہ تنظیم میں سنجیو، چیتن، رمیش، سدرشن اور دیونا جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق تروپتی کو اپریل 2010 میں دنتے واڑہ میں ماو¿نوازوں کے حملے کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا ہے، جس میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 74 اہلکار شہید ہوئے تھے۔ تروپتی کو ستمبر 2025 میں نمبالا کیشو راو¿ کی موت کے بعد تنظیم کا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد، سیکورٹی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ ریاست میں نکسل ازم اب اپنے خاتمے کے قریب ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande