
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے موسیقار جوبن نوٹیال کے ذاتی حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ جسٹس تشار راؤ گڈیلا کی سربراہی والی بنچ نے جوبن نوٹیال سے متعلق کسی بھی مواد کے بغیر اجازت کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایک عبوری حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے جوبن نوٹیال سے منسلک لنکس، ویڈیوز، ویب سائٹس اور موبائل ایپس پر مواد کے بغیر اجازت استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ نوٹیال نے ایک درخواست دائر کر کے کہا تھا کہ اے آئی ، ڈیپ فیک اور مشین لرننگ ٹولز کا استعمال کرکے ان کی آواز، نقل اور گانے کے انداز کو بغیر اجازت استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ معاملات میں، ان کے چہرے اور آواز کو تبدیل کرکے مواد تخلیق کیا گیا ہے ۔
اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 19 فروری کو جوبن نوٹیال سے پوچھا تھا اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار کیسے بنتا ہے جب کہ جوبن اتراکھنڈ کے رہنے والے ہیں اور کچھ مدعا علیہ رومانیہ اور متحدہ عرب امارات کے ہیں۔
ہائی کورٹ اس سے قبل کئی مشہور شخصیات کے ذاتی حقوق کے تحفظ کا حکم دے چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ فلم اداکارہ کاجول دیوگن، اداکار وویک اوبرائے، آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان، سابق کرکٹر سنیل گواسکر، فلم اداکار سلمان خان، اداکار اجے دیوگن، اداکارہ و رکن پارلیمنٹ جیا بچن، صحافی سدھیر چودھری، آرٹ آف لیونگ فاو¿نڈیشن کے بانی سری سری روی شنکر، تیلگو اداکار ناگارجن ، اداکارہ ایشوریہ رائے ، ابھیشیک بچن اور فلم پروڈیوسر کرن جوہر سے متعلق مواد کا بغیر اجازت استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد