بنگال میں ایس آئی آر کے لیے بیرونی عدالتی افسران کی تعیناتی کی منظوری
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹرفہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں دعووں اور اعتراضات سے نمٹنے کے لیے ریاست سے باہر کے عدالتی افسران کی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کلکتہ
SC-Calcutta-HC-West-Bengal-SIR


نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹرفہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں دعووں اور اعتراضات سے نمٹنے کے لیے ریاست سے باہر کے عدالتی افسران کی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے تین سال کے تجربے کے ساتھ اضافی سول ججوں کے علاوہ جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے عدالتی افسران کو بھی تعینات کریں۔

دراصل، کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست میں ”منطقی تضاد“ کے 50,000 سے زیادہ معاملات ہیں، جن کا تصفیہ کرنے کے لئے عدالتی افسران کی کمی پڑ جائے گی ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس کام کے لیے تقریباً 250 جوڈیشل افسران کو 80 دنوں تک تعینات کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مغربی بنگال کے باہر سے عدالتی افسران کی تعیناتی کے اخراجات الیکشن کمیشن برداشت کرے گا۔ الیکشن کمیشن ریاست سے باہر کے عدالتی افسران کے سفر، رہائش اور اعزازیہ کے اخراجات برداشت کرے گا۔

سپریم کورٹ نے 20 فروری کو منطقی تضاد کی فہرست میں شامل کئے گئے افراد کے ذریعہ جمع کرائے گئے دعووں کے ازالے کے لئے ریاستی عدالتی افسران کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ وہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سطح کے عدالتی افسران کو خصوصی جامع نظر ثانی کے عمل کے لئے دستیاب کرائیں ۔

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے عدالتی افسران کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ عدالت نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو بھی ہدایت دی کہ وہ اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) میں مصروف افسران کی طرف سے موصول ہونے والی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے کی گئی کارروائی کے بارے میں ایک حلف نامہ داخل کریں۔

سپریم کورٹ نے کہاکہ بنگال کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، جہاں دو آئینی ادارے، الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال حکومت، ایک دوسرے پر الزامات در الزامات لگا رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان اعتماد کی واضح کمی ہے۔ اس سے خصوصی جامع نظرثانی کا عمل رک گیا ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، ہمارے پاس یہ فیصلہ لینے کے سوا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست میں خصوصی جانچ کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی پر اسپیشل اسکروٹنی کے عمل کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامہ میں کمیشن نے کہا کہ ممتا بنرجی نے خصوصی جانچ کے عمل میں خلل ڈالنے کے لیے اشتعال انگیز تقریریں کیں ۔

حلف نامے میں، الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں خصوصی جامع نظر ثانی میں شامل افسران کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کا ماحول ہے ، جو دوسری ریاستوں سے مختلف ہے۔ کمیشن نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت، وزیر اعلیٰ اور انتظامیہ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے خلاف کام کر رہے ہیں، جس سے اس اہم مشق کو مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande