
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی 25 فروری سے اسرائیل کے دو روزہ سرکاری دورے پرجا رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران، وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ وسیع دو طرفہ بات چیت کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیست سے خطاب بھی کریں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ,وزیر اعظم مودی مقامی وقت کے مطابقبدھ کو دوپہر 12:45 بجے تل ابیب پہنچیں گے۔ وزیر اعظم مودی کی آمد پر دونوں وزرائے اعظم کے درمیان مختصر ملاقات ہوگی ۔ پہلے دن، وزیر اعظم کنیست سے خطاب کرنے کے علاوہ ہندوستانی نژاد لوگوں کے ساتھ ایک کمیونٹی پروگرام میں شرکت کریں گے اور ایک ٹیکنالوجی نمائش کا دورہ کریں گے۔ شام میں وہ، وزیر اعظم نیتن یاہو کی طرف سے دیئے گئے نجی عشائیے میں شرکت کریں گے۔
اپنے دورے کے دوسرے دن26 فروری کو، وزیر اعظم مودی یروشلم میں واقع یاد واشم میں ہولوکاسٹ کی یادگار پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جائیں گے، جہاں نازیوں کے ظلم و ستم میں مارے گئے لاکھوں یہودیوں کی یاد محفوظ ہے۔
اس کے بعد وزیراعظم اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے دو طرفہ مذاکرات کریں گے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔ بات چیت کے بعد اختراع، سائنس اور ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہونے کی امید ہے۔
وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران ہندوستانی اور یہودی برادریوں کے ارکان سے بھی بات چیت کریں گے، جسے اسٹریٹجک، تکنیکی اور اختراعی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ نو برسوں میں یہ وزیر اعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہوگا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ کو مزید مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق، وزیر اعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017 تک اسرائیل کا تاریخی دورہ کیا تھا۔ یہ کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا، جس کے دوران دو طرفہ تعلقات کو ”اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ کی سطح پر بلند کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جنوری 2018 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔
دونوں وزرائے اعظم کے مابین حالیہ برسوں میں باقاعدہ رابطہ قائم رہا ہے۔ 2023 اور 2026 کے درمیان، دونوں رہنماو¿ں نے علاقائی مسائل، دہشت گردی، مغربی ایشیا کی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مختلف مواقع پر ٹیلی فون پر بات کی۔ گزشتہ جنوری میں دونوں رہنماو¿ں نے نئے سال کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔
دفاعی اور سیکورٹی تعاون ہندوستان -اسرائیل تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ نومبر 2025 میں ہندوستانی وزیر دفاع کے اسرائیل کے دورے کے دوران، دفاعی تعاون سے متعلق ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس سے اسٹریٹجک تعاون کو نئی تحریک ملی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزیر خزانہ کے دورہ ہندوستان کے دوران دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد سرمایہ کاری کا تحفظ اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان اسٹارٹ اپس، مشترکہ تحقیق اور ترقی کے پروجیکٹس، انڈیا-اسرائیل انڈسٹریل ریسرچ اینڈ انوویشن فنڈ (آئی 4ایف)، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکورٹی جیسے شعبوں میں مضبوط تعاون ہے۔ دونوں ممالک تکنیکی جدت کو اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں دیرینہ تعاون رہاہے۔ مختلف ہندوستانی ریاستوں میں 43 منظور شدہ سینٹرز آف ایکسیلنس میں سے 35 مکمل طور پر کام کر رہے ہیں، جو جدید کاشتکاری، آبپاشی اور پانی کے انتظام کی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اپریل 2025 میں اسرائیلی وزیر زراعت کے ہندوستان کے دورے کے دوران، زرعی شعبے میں تعاون کے ایک نظرثانی شدہ معاہدے اور 2024-26 کے لیے مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے تھے۔
اسرائیل میں ہندوستانی نژاد 41,000 سے زیادہ لوگ مقیم ہیں۔ نومبر 2023 میں، دونوں ممالک نے ہندوستانی کارکنوں کے لیے محفوظ اور قانونی عارضی روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت اب تک 20,000 سے زیادہ ہندوستانی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔
ہندوستان نے 13 اکتوبر 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اعلان کردہ غزہ میں تنازعات کو ختم کرنے کے لئے جامع منصوبہ کا خیرمقدم کیا اور خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
ہندوستان اور اسرائیل آئی 2یو2 گروپ (ہندوستان، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ) کے رکن ہیں، جو خوراک کی حفاظت، قابل تجدید توانائی، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک فورم ہے۔
وزیر اعظم مودی کے دورہ اسرائیل کو دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور علاقائی تعاون کے وسیع ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد