کابینہ... 2026-27 کے سیزن کے لیے خام جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت کی منظوری
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے ) نے منگل کومارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے کچے جوٹ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی ) کو منظوری دے دی۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت نئے ’سیوا تیرت
Cabinet-approves-Minimum-Support-Prices-for-Raw-Ju


نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے ) نے منگل کومارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے کچے جوٹ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی ) کو منظوری دے دی۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت نئے ’سیوا تیرتھ ‘(وزیر اعظم کا نیا دفتر) میں منعقدہ مرکزی کابینہ کی پہلی میٹنگ میں اس سلسلےکی تجویز کو منظوری دی گئی۔ سی سی ای اے نے مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے خام جوٹ (ٹی ڈی-3 گریڈ) کا ایم ایس پی 5,925 روپے فی کوئنٹل مقرر کیا ہے۔

مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مرکزی کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایاکہ مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے خام جوٹ کا ایم ایس پی گزشتہ مارکیٹنگ سیزن 2025-26 کے مقابلے 275 روپے فی کوئنٹل زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کچے جوٹ کی ایم ایس پی مارکیٹنگ سیزن 2014-15 میں2400 روپے فی کوئنٹل سے بڑھا کر 2026-27 کے مارکیٹنگ سیزن میں 5,925 روپے فی کوئنٹل کر دی ہے جو کہ 3,525 روپے فی کوئنٹل یعنی (2.5 گنا) کا اضافہ ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ مارکیٹنگ سیزن 2014-15 سے مارکیٹنگ سیزن 2025-26 کے دوران جوٹ کے کسانوں کو ادا کی گئی ایم ایس پی کی رقم 1342 کروڑ روپے تھی، جبکہ مارکیٹنگ سیزن 2004-05 سے مارکیٹنگ سیزن 2013-14 کے دوران ادا کی گئی رقم 441 کروڑ روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے پورے ہندوستان میں پیداوار کی اوسط لاگت پر 61.8 فیصد کا ریٹرن ملے گا۔ مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے خام جوٹ کے لیے اعلان کردہ ایم ایس پی پورے ہندوستان میں پیداوار کی اوسط لاگت سے کم از کم 1.5 گنا ایم ایس پی طے کرنے کے اصول کے مطابق ہے، جس کا اعلان حکومت نے بجٹ 2018-19 میں کیا تھا۔

اشونی ویشنو نے کہا کہ جوٹ کارپوریشن آف انڈیا (جے سی آئی) پرائس سپورٹ آپریشنز کو انجام دینے کے لیے مرکزی حکومت کی نوڈل ایجنسی رہے گی اور اگر اس طرح کے آپریشن میں کوئی نقصان ہوتا ہے تو مرکزی حکومت اس کی مکمل تلافی کرے گی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande