
دہلی میں 668ایم سی ڈی اسکول خستہ حالی کا شکار، اساتذہ اور بچے روز خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں: پریتی ڈوگرانئی دہلی، 23فروری(ہ س)۔
عام آدمی پارٹی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے خستہ حال اسکولوں کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایم سی ڈی کے سہ انچارج پروین کمار نے کہا کہ اس اے آئی کے دور میں ایم سی ڈی کے کھنڈر نما اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ جب بچوں کو معیاری تعلیم اور محفوظ ماحول ملے گا، تبھی ہندوستان میں اے آئی کا مستقبل مضبوط ہوگا۔ لیکن دہلی کے 668 ایم سی ڈی اسکول اس وقت انتہائی خستہ حالت میں ہیں، جہاں اساتذہ اور طلبہ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابرپور کے ایک خستہ حال اسکول کی مرمت کے لیے پرنسپل کی جانب سے کئی مرتبہ محکمہ کو خطوط ارسال کیے گئے، مگر ہر بار نظرانداز کیا گیا۔ اگر بی جے پی حکومت نے جلد مرمت کا کام شروع نہ کیا تو عام آدمی پارٹی سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرے گی۔سِوک سینٹر واقع ایم سی ڈی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پروین کمار نے کہا کہ حال ہی میں دہلی میں اے آئی سمٹ منعقد ہوا، جہاں نئی ایجادات پر بات کی گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں ان ایجادات کو نافذ ہونا ہے اور جس نئی نسل کو یہ ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہے، کیا وہ اس کے لیے تیار ہے؟ دہلی کے میونسپل اسکولوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کو عمارت میں داخل ہونے سے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں چھت یا برآمدہ نہ گر جائے یا بیت الخلا کا دروازہ نہ ٹوٹ کر گر پڑے۔ میونسپل اسکولوں میں پہلی سے پانچویں جماعت تک کے کم سن بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جنہیں اپنی حالت کا اندازہ نہیں، لیکن اساتذہ اور پرنسپل روزانہ اس خوفناک صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی کا کوئی رہنما اپنے بچے کو ایسے اسکول میں داخل کرانا پسند کرے گا؟ پروین کمار نے بتایا کہ 2023 سے مسلسل سروے ہو رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نئی عمارت کی ضرورت نہیں، صرف مرمت کافی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسکول میں 24 گھنٹے پانی ٹپکتا رہتا ہے اور چھتیں کھل رہی ہیں۔ کئی برسوں سے پرنسپل کی جانب سے خطوط لکھے جا رہے ہیں، مگر جواب میں فنڈ نہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔ اس سے پرنسپل ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ خط میں لکھا گیا کہ ہم بھی والدین ہیں، خدارا دیر ہونے سے پہلے مسئلے کا حل نکالا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیمہ کی رقم کسی بچے کی جان کا مکمل نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ افسران کی خاموشی سب سے بڑی اذیت ہے۔ جان کی قیمت شاید لگائی جا سکتی ہے، مگر ذہنی کرب اور خاندان کے صدمے کا معاوضہ کون دے گا؟ پریتی ڈوگرا نے کہا کہ ایک طرف ملک کو بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور 4 ٹریلین ڈالر کی اکانومی کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف قومی راجدھانی دہلی میں وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کی موجودگی کے باوجود گورکھ پارک کے میونسپل اسکولوں میں بچے خستہ حال عمارتوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا بی جے پی ڈالر اکانومی کی چمک میں بچوں کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا اندازہ محض اعداد و شمار سے نہیں بلکہ آنے والی نسل کے محفوظ مستقبل سے لگایا جاتا ہے۔ دہلی میں 668 ایم سی ڈی اسکول خطرناک حالت میں ہیں، جہاں اساتذہ اور طلبہ روز خوف میں رہتے ہیں۔ لاڈوسرائے سے آپ کے کونسلر اور ایم سی ڈی ایجوکیشن کمیٹی کے رکن راجیو سنوال نے کہا کہ ایک سال سے افسران کو خطوط لکھے جا رہے ہیں، کمشنر سے لے کر ڈی ڈی تک سب کو آگاہ کیا گیا، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ افسران شاید کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو بجٹ کا تقریباً 27 تا 28 فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا تھا، جبکہ موجودہ میونسپل بجٹ میں صرف تقریباً 16 فیصد دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے وقت خوفزدہ رہتے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو ذمہ داری کون لے گا؟ بیٹی بچاو، بیٹی پڑھاو اور سب کے لیے تعلیم جیسے نعرے محض کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔وارڈ 235 گورکھ پارک کی کونسلر پریانکا سکسینہ نے کہا کہ وہ گزشتہ تین برسوں سے اس مسئلے کو اٹھا رہی ہیں۔ برسات کے موسم میں چھت سے پانی ٹپکتا ہے، بیت الخلا کی حالت انتہائی خراب ہے اور کئی مرتبہ کلاس کے دوران پلستر گر چکا ہے۔ خوش قسمتی سے کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا، لیکن انتظامیہ کی بے حسی برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ افسران نے سروے کیا مگر نہ کونسلر کو شامل کیا اور نہ اساتذہ کو۔ مرمت کے لیے فنڈ کی منظوری کا خط بھیجا گیا، مگر ابھی تک رقم جاری نہیں ہوئی۔ نئی عمارت کی تعمیر تو دور، مرمت بھی ممکن نہیں ہو پا رہی۔پریانکا سکسینہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت تعلیم اور بچوں کی جان دونوں پر سیاست کر رہی ہے۔ جہاں آپ کے کونسلر ہیں، وہاں جان بوجھ کر فنڈ روک دیے جا رہے ہیں۔ اگر حالات نہ بدلے تو عام آدمی پارٹی والدین کے ساتھ مل کر سڑکوں پر احتجاج کرے گی اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais