
مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی میں یادگاری خطبہ، مشترکہ قومیت، رواداری اور تعلیم کی اہمیت پر زورپٹنہ،23فروری(ہ س)۔
مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی، میٹھاپور پٹنہ کے شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ”مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریہ تکثیریت“ کے عنوان سے یادگاری خطبہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر مشتاق احمد، سابق رجسٹرار متھلا یونیورسٹی اور پرنسپل سی ایم کالج دربھنگہ نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریہ تکثیریت نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ جدید جمہوری معاشروں کے لیے مو¿ثر رہنمائی کا سرچشمہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی شہرہ آفاق تفسیر ”ترجمان القرآن“ میں مذہبی رواداری، انسانیت اور اتحاد کا واضح درس ملتا ہے، اور اسلام عدل و مساوات کا پیغام دیتا ہے، نہ کہ تنگ نظری یا تعصب کا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا آزاد نے سیاسی میدان میں بھی تکثیری اقدار کا عملی نمونہ پیش کیا۔ وہ تحریکِ آزادی کے صفِ اوّل کے رہنما رہے اور فرقہ وارانہ سیاست کی سخت مخالفت کی۔ ان کے مطابق مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنانے سے معاشرہ تقسیم کا شکار ہوتا ہے، اس لیے قومی اتحاد، بھائی چارہ اور مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان ایک کثیرالمذاہب، کثیرالثقافتی اور کثیراللسانی معاشرہ ہے جہاں اختلافات کو مٹانے کے بجائے تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام اور اشتراک کی فضا قائم کرنا ہی تکثیریت کا اصل مقصد ہے۔پروفیسر مشتاق احمد نے ”الہلال“، ”غبار خاطر“ اور مختلف خطبات کے حوالوں سے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنی تحریروں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے مشترکہ قومیت کا تصور پیش کیا، جس کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ ہے۔ موجودہ حالات میں بڑھتے ہوئے مذہبی و سماجی تنازعات کے پس منظر میں مولانا آزاد کا نظریہ تکثیریت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ معاشرتی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور مکالمے کو فروغ دیں۔
انہوں نے تعلیمی میدان میں مولانا آزاد کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے اور جدید تعلیمی اداروں کے قیام میں ان کا کلیدی کردار رہا۔ ان کے نزدیک تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو معاشرے میں شعور، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، اور تکثیریت کی کامیابی بھی فکری وسعت اور تعلیم سے وابستہ ہے۔شعبہ اردو کے استاذ و سابق ایم ایل اے ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ مولانا آزاد کا نظریہ آج کے بھارت سمیت پوری دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد اور تنوع ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر محمد عالمگیر نے کہا کہ مولانا آزاد کا نظریہ تکثیریت ایک جامع فکری و اخلاقی فلسفہ ہے جو انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے، اور موجودہ حالات میں اس پر عمل وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروگرام کا آغاز جامعہ کے ترانے سے ہوا۔ نظامت ڈاکٹر توقیر عالم توقیر نے کی اور اظہارِ تشکر ڈاکٹر انوارالحق نے پیش کیا۔ اس موقع پر انیسہ مکی، شاذیہ پروین اور طلعت جبیں نے مقالے پیش کیے جبکہ یاور راشد نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں اساتذہ، محققین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود رہی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais