انفیکشن سے بچاؤ اور اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ پر فاؤنڈیشن کورس کا اہتمام
علی گڑھ, 20 فروری (ہ س)جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہاسپٹل انفیکشن کنٹرول کمیٹی نے سوسائٹی آف اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ پریکٹسز اِن انڈیا کے زیرِ اہتمام انفیکشن پریوینشن، کنٹرول اور انٹیگریٹیڈ اینٹی مائیکروبیئل ا
پروفیسر فاطمہ


علی گڑھ, 20 فروری (ہ س)جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہاسپٹل انفیکشن کنٹرول کمیٹی نے سوسائٹی آف اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ پریکٹسز اِن انڈیا کے زیرِ اہتمام انفیکشن پریوینشن، کنٹرول اور انٹیگریٹیڈ اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ (اے ایم ایس پی) پر دو روزہ فاؤنڈیشن کورس ایم ڈی /ایم ایس کے پہلے سال کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے منعقد کیا تاکہ انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ کلینیکل پریکٹس کے لیے ضروری علمی اور عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

افتتاحی اجلاس میں ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد نے اس نوعیت کے تربیتی پروگرام کے طویل مدتی تعلیمی اور کلینیکل فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں سے ابتدائی واقفیت مریضوں کی حفاظت سے متعلق ریزیڈنٹس کے پیشہ ورانہ رویے کو تشکیل دیتی ہے۔

پرنسپل جے این ایم سی، پروفیسر انجم پرویز نے صحت سے متعلق اداروں میں ہونے والے انفیکشنز کے عالمی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انفیکشنز اسپتال میں قیام کی مدت بڑھانے، طبی عملے کے بوجھ میں اضافے، علاج کے اخراجات میں اضافہ اور مریضوں و تیمارداروں کی ذہنی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قابل تدارک انفیکشنز کے معاشی اور انتظامی اثرات نمایاں ہوتے ہیں، جس کے پیش نظر مضبوط ادارہ جاتی احتیاطی نظام ناگزیر ہے۔

کورس کوآرڈینیٹر پروفیسر تمکین خان نے سیپسز کے حقیقی کیسز کی روشنی میں کلینیکل تجربات بیان کرتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ انفیکشن سے بچاؤ کو بیماری اور اموات میں کمی کا مؤثر ترین ذریعہ سمجھا جائے۔ پروفیسر عادل رضا نے تشخیصی اسٹیورڈشپ میں خصوصاً بروقت اور درست رپورٹنگ کے ذریعے مؤثر اینٹی مائیکروبیئل علاج کی رہنمائی کے حوالے سے مائیکرو بایولوجی لیبارٹریوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔

پروفیسر فاطمہ خان نے تربیت یافتگان کو خصوصاً اینٹی مائیکروبیئلز تجویز کرتے وقت یا انویزیو پروسیجرز انجام دیتے وقت طبی اخلاقیات کے اصول، سب سے پہلے نقصان نہ پہنچاؤ پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ انہیں کی نگرانی میں اکیڈمک سیشنز کا باضابطہ آغاز ہوا اور ابتدائی فہم کا جائزہ لینے کے لیے پری اسیسمنٹ بھی کیا گیا۔ پروگرام کے کوآرڈنیٹر ڈاکٹر شارق احمد تھے۔

پہلے دن میں آئی پی سی کے بنیادی تصورات اور اسٹیورڈشپ کے اصولوں پر توجہ دی گئی، جن میں ہاتھوں کی صفائی، اسپتال میں سورس کنٹرول، بایومیڈیکل فضلے کا انتظام اور منتقلی سے متعلق احتیاطی تدابیر شامل تھیں۔

ڈائیگنوسٹک اسٹیورڈشپ کے جامع ماڈیول میں نمونوں کے درست حصول، ترسیل، لیبارٹری پروسیسنگ اور رپورٹس کی تشریح کے ساتھ ساتھ بیڈ سائیڈ اطلاق کے لیے مقامی اینٹی بایوٹک پالیسیوں کی تشکیل پر بھی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ سیپسز و اینٹی سیپسز، اسٹرلائزیشن تکنیک، ڈس انفیکشن کے طریقے، آپریشن تھیٹرز اور آئی سی یو کی صفائی، اور بیڈ سائیڈ اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ کی مربوط حکمت عملیوں جیسے پری آتھرائزیشن پروٹوکول، ریڈنڈنسی الرٹس، آئی وی سے اورل تبدیلی کی حکمت عملی، اسٹاپ آرڈرز، آؤٹ پیشنٹ پیرینٹرل اینٹی مائیکروبیئل تھیریپی اور پروسپیکٹو آڈٹ و فیڈبیک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوسرے دن میں انفیکشن میں کمی کے لیے بنڈل بیسڈ کیئر اپروچز پر روشنی ڈالی گئی۔ اساتذہ نے شواہد پر مبنی طریقہ کار کی پابندی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ منظم بنڈلز انفیکشن کی شرح کم کرنے اور مریضوں کے نتائج بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ کیس بیسڈ گفتگو کے ذریعے اسٹیورڈشپ اقدامات کے عملی نفاذ میں درپیش چیلنجوں اور مختلف کلینیکل ماحول کے مطابق قابل عمل حل پیش کیے گئے۔

کورس کی ایک نمایاں خصوصیت شعبہ وار اسٹیورڈشپ منصوبہ بندی تھی، جس میں مختلف تخصصات کے شرکاء نے اپنے اپنے شعبوں میں انفیکشن کے خطرات، اینٹی بایوٹک استعمال کے رجحانات وغیرہ کی نشاندہی کی۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande