اے ایم یو ہیکاتھون، تقسیم انعامات تقریب کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ, 20 فروری (ہ س) علی گڑھ، 20 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اے ایم یو ہیکاتھون 2026 کا اختتام شعبہ فزکس کے کانفرنس روم میں منعقدہ تقریب تقسیم انعامات کے ساتھ ہوا، جس میں کیمپس کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلہ میں طلبہ کی جانب سے تیار کردہ ا
ہیکاتھون


علی گڑھ, 20 فروری (ہ س)

علی گڑھ، 20 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اے ایم یو ہیکاتھون 2026 کا اختتام شعبہ فزکس کے کانفرنس روم میں منعقدہ تقریب تقسیم انعامات کے ساتھ ہوا، جس میں کیمپس کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلہ میں طلبہ کی جانب سے تیار کردہ اختراعی منصوبوں کو سراہا گیا۔ یہ پروگرام انّوویشن کونسل و یونیورسٹی انکیوبیشن سینٹر (آئی سی اینڈ یو آئی سی)نے اے ایم یو انّوویشن فاؤنڈیشن (اے ایم یو آئی ایف) کے اشتراک سے منعقد کیا۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر اے ایم یو آئی ایف کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر امتیاز حسن، آئی سی اینڈ یو آئی سی کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر محمد سجاد اطہر، ہیکاتھون کے کنوینر پروفیسر اکرم خان اور شریک کنوینر ڈاکٹر سید جاوید احمد رضوی سمیت ورکنگ کمیٹی کے اراکین، حج صاحبان اور دیگر افراد موجود تھے۔

پروفیسر اکرم خان نے طلبہ میں انٹریپرینیورشپ کے فروغ میں آئی سی اینڈ یو آئی سی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے اے ایم یو آئی ایف کو ٹکنالوجی پر مبنی اختراعات کی حمایت کرنے والا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ پروگرام کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ 47 شرکاء پر مشتمل 15 ٹیموں نے 26 گھنٹوں تک مسلسل کام کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی سیکیورٹی، ڈیٹا بیس مینجمنٹ، جے این ایم سی ایچ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر رسائی، توانائی کے تحفظ، ویسٹ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل فیول سسٹمز جیسے موضوعات پر ٹکنالوجی پر مبنی حل تیار کیے۔

اپنے خطاب میں پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ ہیکاتھون اس بات کی بہترین مثال ہے کہ تعلیمی ادارے کس طرح حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے والے افراد تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ”اختراع کو کلاس روم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی حل کی صورت میں معاشرے تک پہنچنا چاہیے۔ اس طرح کے پلیٹ فارم طلبہ کو تنقیدی سوچ، مؤثر اشتراک اور قوم کی خدمت کے لیے ٹکنالوجی کی تیاری کا موقع فراہم کرتے ہیں“۔انہوں نے شرکاء کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہااور ہیکاتھون کو مستقبل کے کیمپس کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم بتایا۔

پروفیسر امتیاز حسن نے آئی سی اینڈ یو آئی سی اور اے ایم یو آئی ایف کے قیام کو تعلیمی دنیا اور عملی اطلاق کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا۔

تقریب میں مختلف زمروں کے فاتحین کو نقد انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔ اسٹوڈنٹ لائف سائیکل ڈیٹا بیس مینجمنٹ کے زمرے میں ٹیم اسٹارک نے پہلا مقام اور ٹیم انچیکڈ اِرّر نے دوسرا مقام حاصل کیا۔ جے این ایم سی ایچ کے لیے آن لائن ٹیسٹ رپورٹس تک رسائی کے زمرے میں ٹیم زیرو ڈگری دوسرے مقام پر اور ٹیم اسپارکس دوسرے مقام پر رہی۔ اے آئی پر مبنی سی سی ٹی وی کیمپس سیکیورٹی کے زمرے میں ٹیم نورڈ، ٹیم دی ایکویلس اور ٹیم سی ٹی آر ایل ایف ٹکنالوجیز کو حوصلہ افزائی انعامات دیے گئے۔ ویسٹ مینجمنٹ میں ٹیم ڈیکوڈ نے دوسرا مقام حاصل کیا جبکہ ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم کے زمرے میں ٹیم کیوبسٹر لیبس کو حوصلہ اافزائی انعام دیا گیا۔ آخر میں پروفیسر محمد سجاد اطہر نے کلماتِ تشکر ادا کئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande