
علی گڑھ, 20 فروری (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایکو کلب نے طلبہ میں ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے وزڈم ہال میں ”کاربن کانکلیو: کاربن اخراج اور ماحولیاتی تبدیلی“ کے موضوع پر سیمینارمنعقد کیا۔
اپنے ابتدائی کلمات میں پروفیسر انور شہزاد نے جنگلات کی کٹائی، شہری توسیع اور صنعت کاری کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار اور ماحولیاتی عدم توازن کے اہم اسباب قرار دیتے ہوئے شجرکاری مہمات اور پائیدار طرز عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر فائزہ عباسی نے ماحولیاتی بحران، کاربن فٹ پرنٹ، گرین ہاؤس اثرات اور قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نیٹ زیرو موافقت اور کاربن کیپچر اینڈ اسٹوریج (سی سی ایس) جیسے تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے طلبہ کو انفرادی سطح پر ماحولیات دوست طرز زندگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی سطح کے اقدامات کی حمایت کرنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر عروس الیاس نے گرین ہاؤس گیسوں کا سائنسی جائزہ پیش کرتے ہوئے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں، صنعتوں اور گاڑیوں کو کاربن اخراج کے بڑے ذرائع قرار دیا۔ انہوں نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی میں اضافے جیسے نمایاں اثرات پر گفتگو کی اور قابل تجدید توانائی، الیکٹرک موبیلٹی اور پائیدار طرزِ زندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
سیمینار کا اختتام ایک تعاملی نشست اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا۔ پروگرام کے انعقاد میں یونیورسٹی ایکو کلب کے اراکین بشمول سکریٹری عبدالرحمن نے فعال کردار ادا کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ