
ممبئی، 7 نومبر(ہ س)۔اتراکھنڈ کی خوبصورت وادیاں اب صرف فلموں کی شوٹنگ کے لیے ہی نہیں بلکہ فلم سازی کی جدید سہولیات کے حوالے سے بھی اپنی شناخت بنانے کی سمت آگے بڑھ رہی ہیں۔ فلم ساز اویناش دھیانی نے چکراتا میں ’اویناش دھیانی فلم سٹی‘ (اے ڈی ایف سی) کا آغاز کرکے اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
فلم ’72 آورز‘ کی ہدایت کاری کے لیے مشہور اویناش کا مقصد اتراکھنڈ میں فلم سازی کا ایسا مرکز تیار کرنا ہے، جہاں مقامی صلاحیتوں کو اپنی ہنرمندی نکھارنے اور کام کرنے کے مواقع مل سکیں۔ اس سے پہاڑی علاقوں کے نوجوانوں کو فلمی دنیا میں اپنا کیریئر بنانے کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے کی مجبوری بھی کم ہوسکتی ہے۔
اویناش کے مطابق، اتراکھنڈ میں قدرتی خوبصورت مقامات کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن شوٹنگ کے لیے ضروری سیٹ اور تکنیکی سہولیات کا فقدان طویل عرصے سے فلم سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اپنی فلموں کی تیاری کے دوران انہیں پولیس اسٹیشن، اسپتال، ریلوے اسٹیشن اور گاؤں جیسے مختلف سیٹ تیار کرنے یا تلاش کرنے پڑتے تھے۔ اسی تجربے سے فلم سٹی قائم کرنے کا خیال آیا۔
یہاں گاؤں، پولیس اسٹیشن، اسپتال، ریلوے اسٹیشن اور برطانوی دور کی عمارتوں سمیت کئی طرح کے سیٹ دستیاب کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیودار کے جنگلات اور ہمالیہ کی خوبصورت چوٹیاں بھی فلم سازوں کو قدرتی مقامات پر شوٹنگ کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔اس پہل کا ایک اہم مقصد مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور تربیت کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ اداکاری کے علاوہ سنیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، لائٹنگ، ساؤنڈ اور پروڈکشن مینجمنٹ جیسے شعبوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو اپنے ہی ریاست میں کام سیکھنے اور آگے بڑھنے کا پلیٹ فارم مل سکے گا۔
فلم سٹی میں کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ اویناش کی آنے والی فلم ’تو تم اور میں‘ کی شوٹنگ یہاں کی جا رہی ہے، جبکہ پہلی عالمی جنگ کے بہادر سپاہی رائفل مین گبر سنگھ نیگی کی زندگی پر مبنی فلم ’وی سی-571‘ کے لیے جنگ کے زمانے کی خندقیں اور دیگر بڑے سیٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔اویناش دھیانی کا ماننا ہے کہ فلمی صنعت کو فروغ دینے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ فلم سازوں اور نجی اداروں کی بھی ہے۔ اتراکھنڈ حکومت کی فلم پالیسی اور سبسڈی کے ساتھ نجی کوششوں کے ذریعے ریاست میں فلم سازی کے لیے ایک مضبوط بنیاد تیار کی جا سکتی ہے۔اے ڈی ایف سی اسی سمت میں ایک کوشش ہے، جس کا مقصد اتراکھنڈ کی صلاحیتوں اور کہانیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan