فلمی جائزہ: شاندار مناظر اور دمدار اداکاری سے سجی نتیش تیواری کی ’رامائن‘
ممبئی، 5 نومبر (ہ س)۔ کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بار بار دیکھنے اور سننے کے باوجود ان کی کشش کم نہیں ہوتی۔ ’رامائن‘ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو ہر ہندوستانی کے دل اور جذبات سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کہانی کو بڑے پردے پر پیش کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ
فلم رامائن


ممبئی، 5 نومبر (ہ س)۔ کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بار بار دیکھنے اور سننے کے باوجود ان کی کشش کم نہیں ہوتی۔ ’رامائن‘ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو ہر ہندوستانی کے دل اور جذبات سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کہانی کو بڑے پردے پر پیش کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ ناظرین اس کے ہر کردار اور واقعے سے واقف ہیں۔ ایسے میں ہدایت کار نتیش تیواری نے ’رامائن‘ کے ذریعے ایک بار پھر اس عظیم رزمیہ داستان کو نئے انداز اور شان و شوکت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

رنبیر کپور، یش اور سائی پلوی جیسے فنکاروں سے سجی یہ فلم محض ایک مذہبی داستان نہیں، بلکہ محبت، قربانی، احترام، تکبر اور دھرم کی لڑائی کو بڑے سنیما کے انداز میں پیش کرتی ہے۔ فلم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں کہانی کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور شاندار بصری مناظر کا استعمال کیا گیا ہے۔

کہانی

فلم کی کہانی والمیکی رامائن پر مبنی ہے۔ اس کی شروعات دیوتاو¿ں اور اسوروں کے درمیان کشمکش سے ہوتی ہے، جس کے بعد لنکا میں راون کے عروج کی داستان دکھائی جاتی ہے۔ یش نے راون کے کردار میں ایک ایسے حکمراں کو پیش کیا ہے جس کے اندر بے پناہ طاقت، ذہانت اور تینوں لوکوں پر حکومت کرنے کی خواہش ہے۔ تپسیہ، برہما سے وردان حاصل کرنا، اندر کو شکست دینا اور کوبیر سے لنکا پر قبضہ کرنے جیسے واقعات راون کی شخصیت کو مزید وسعت دیتے ہیں۔

اس کے بعد کہانی ایودھیا پہنچتی ہے، جہاں راجہ دشرتھ کے گھر بھگوان وشنو، رام کے روپ میں جنم لیتے ہیں۔ رام کا بچپن، ان کی تعلیم و تربیت، ہتھیارچلانے کی مہارت اور وشوامتر کے ساتھ ان کا سفر دکھایا گیا ہے۔ تاڑکا کا ودھ، اہلیہ ادھار اور میتھلا میں سیتا سویمور جیسے واقعات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

رام اور سیتا کی شادی فلم کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ اس کے بعد کیکئی کے دو وردان مانگنے سے کہانی میں بڑا موڑ آتا ہے۔ وہ بھرت کے لیے تخت اور رام کے لیے 14 سال کا بنواس مانگتی ہیں۔ رام بغیر کسی مخالفت کے والد کے وعدے کا احترام کرتے ہوئے بنواس جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سیتا اور لکشمن بھی ان کے ساتھ جنگل جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب لنکا میں راون کی بڑھتی ہوئی خواہشات اور شرپنکھا سے جڑے واقعات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ آخرکار راون سیتا کا اغوا کرکے انہیں لنکا لے جاتا ہے۔ فلم کا پہلا حصہ یہیں تک کی کہانی دکھاتا ہے اور آگے ہونے والی رام اور راون کی جنگ کی بنیاد تیار کرتا ہے۔

ہدایت کاری

نتیش تیواری نے اس عظیم داستان کو پردے پر اتارنے کے لیے کافی محنت کی ہے۔ ’رامائن‘ کی کہانی سے ناظرین پہلے ہی واقف ہیں، اس لیے سب سے ضروری تھا کہ اس کی اصل روح سے چھیڑ چھاڑ کیے بغیر اسے ایک نیا سنیماٹک روپ دیا جائے۔ ہدایت کار اس کام میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

انہوں نے فلم کو صرف وی ایف ایکس اور بڑے سیٹ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کرداروں کے رشتوں اور جذبات کو بھی مناسب اہمیت دی ہے۔ رام اور لکشمنکا بھائی چارہ، رام اور سیتا کی محبت، کیکئی کے ساتھ رام کی گفتگو اور راون کی بلند عزائم جیسے واقعات فلم کو جذباتی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔

فلم میں کئی ایسے مناظر ہیں جو ناظرین کو کہانی سے جوڑتے ہیں۔ رامائن لوگوں کے لیے محض ایک فلم یا کہانی نہیں، بلکہ عقیدت اور جذبات کا موضوع ہے۔ ایسے میں اس کے کرداروں اور مکالموں کے حوالے سے خصوصی احتیاط ضروری تھی۔ فلم میں غیر ضروری تبدیلیاں کرنے کے بجائے اصل واقعات کو شاندار انداز میں پیش کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہی بات اسے خاص بناتی ہے۔

تاہم کچھ مناظر میں کہانی کی رفتار قدرے سست ضرور ہو جاتی ہے، لیکن ہدایت کار نے جلد بازی میں کہانی ختم کرنے کے بجائے ہر کردار کو مناسب وقت دیا ہے۔

تکنیکی پہلو

فلم کا سب سے مضبوط پہلو اس کا تکنیکی معیار ہے۔ ایودھیا کی شان و شوکت، میتھلا کی خوبصورتی، لنکا کے محل، جنگلات اور جنگ سے متعلق مناظر کافی شاندار ہیں۔ فلم کا پروڈکشن ڈیزائن اور سنیماٹوگرافی اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ڈی این ای جی کے ویژول ایفیکٹس فلم کو بڑے پیمانے پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر راون سے متعلق مناظر اور جٹایو و راون کے درمیان کشمکش قابل دید ہے۔ کچھ مناظرمیں سی جی آئی (کمپیوٹر سے تیار کردہ تصاویر) قدرے مصنوعی ضرور محسوس ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر مناظر بڑے پردے پر شاندار اثر چھوڑتے ہیں۔

پنکج کمار اور مہیش لمیے کی سنیماٹوگرافی قابل تعریف ہے۔ ہر مقام اور منظر کو خوبصورتی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔

اے آر رحمان اور ہانس زمر کی موسیقی فلم کا ایک اور مضبوط پہلو ہے۔ دونوں کی موسیقی کہانی کے جذباتی اور مذہبی ماحول کو مزید مو¿ثر بناتی ہے۔ کئی مناظر میں بیک گراو¿نڈ میوزک شائقینکو جذباتی طور پر کہانی سے جوڑ دیتا ہے۔

تین گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی فلم ہونے کے باوجود اس کے شاندار بصری مناظر ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔ خاص طور پر نئی نسل کے شائقین کے لیے یہ فلم رامائن کی قدیم کہانی کو ایک نئے اور جدید انداز میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اداکاری

رنبیر کپور نے بھگوان رام کا کردار انتہائی شائستگی اورپرسکون کے ساتھ ادا کیا ہے۔ ان کے چہرے پر سکون، کردار میں بلندی اور مکالموں میں سنجیدگی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر بنواس قبول کرنے اور کیکئی کے ساتھ جذباتی مناظر میں ان کی اداکاری کافی متاثر کن ہے۔ انہوں نے رام کے کردار کو ضرورت سے زیادہ ڈرامائی بنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔

یش راون کے کردار میں کافی مو¿ثر نظر آتے ہیں۔ ان کی اسکرین پرمضبوط موجودگی اور مکالموں کی ادائیگی کردار کو ایک الگ شناخت دیتی ہے۔ وہ راون کے تکبر، طاقت اور بلند عزائم کو پردے پر بخوبی پیش کرتے ہیں۔ جب بھی وہ اسکرین پر آتے ہیں، شائقین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔

سائی پلوی سیتا کے کردار میں انتہائی فطری اور خوبصورت نظر آتی ہیں۔ ان کی اداکاری میں سادگی اور وقار دکھائی دیتا ہے۔ روی دوبے نے لکشمن کے کردار میں اچھی اداکاری کی ہے۔ رام کے تئیں ان کی عقیدت اور بھائی کے ساتھ ان کی کیمسٹری دیکھنے لائق ہے۔

رکل پریت سنگھ شرپنکھا کے کردار میں متاثر کرتی ہیں۔ لارا دتہ کیکئی کے روپ میں اچھی لگتی ہیں، جبکہ ارون گوول راجہ دشرتھ کے کردار میں جذباتی اثر چھوڑتے ہیں۔ انوپم کھیر کی آواز میں جٹایو کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جٹایو سے جڑا منظر شائقین کو جذباتی کر سکتا ہے۔

آدیناتھ کوٹھارے نے بھرت، وویک اوبرائے نے ودیوت جہوا اور سوربھ سچدیوا نے ماریچ کے کردار میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔

فلم کی خاص بات

فلم کی سب سے بڑی خوبی اس کی شان و شوکت اور کہانی کو پیش کرنے کا انداز ہے۔ رامائن کی کہانی پہلے بھی کئی مرتبہ پردے پر دکھائی جا چکی ہے، لیکن اس بار جدید ٹیکنالوجی اور بصری مناظر کی وجہ سے اس کا تجربہ بالکل مختلف ہے۔

رام اور لکشمن کا رشتہ، رام اور سیتا کے جذبات، راون کی شخصیت اور لنکا کی عظمت فلم کو خاص بناتے ہیں۔خامیاں دیکھیں تو فلم کا دورانیہ کچھ زیادہ ہے۔ بعض مناظر کو مختصر کیا جا سکتا تھا۔ وہیں کچھ مقامات پر سی جی آئی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تاہم یہ خامیاں فلم کے مجموعی تجربے کو زیادہ متاثر نہیں کرتیں۔

مجموعی طور پر نتیش تیواری کی ’رامائن‘ ایک شاندار سنیماٹک تجربہ ہے۔ رنبیر کپور نے رام کے کردار میں اپنی الگ چھاپ چھوڑی ہے، یش راون کے روپ میں دمدار نظر آتے ہیں اور سائی پلوی نے سیتا کے کردار کو خوبصورتی سے نبھایا ہے۔

فلم کی دلکشی، شاندار بصری مناظر، بہترین سنیماٹوگرافی اور اے آر رحمان و ہانس زمر کی موسیقی اسے بڑے پردے پر دیکھنے کے لائق بناتی ہے۔ کچھ مقامات پر فلم کے دورانیے اور وی ایف ایکس میں بہتری کی گنجائش ضرور ہے، لیکن اس کی خوبیاں ان خامیوں پر بھاری پڑتی ہیں۔

بچپن سے رامائن کی کہانی جاننے والے ناظرین کو بھی اس فلم میں کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا۔ خاص طور پر نئی نسل کے لیے یہ فلم ہندوستانی رزمیہ داستان سے جڑنے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

اگر آپ رامائن کی کہانی، شاندار سنیما اور بہترین بصری مناظر کے شوقین ہیں تو یہ فلم تھیٹر میں ضرور دیکھنی چاہیے۔ آئی میکس اور تھری ڈی میں اس کا تجربہ مزید شاندار ہو سکتا ہے۔ فلم کو لے کر جس قدر توقعات تھیں، وہ بڑی حد تک پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔

فلم کی تفصیلات

- فلم: رامائن (پارٹ 1)

- ہدایت کار: نتیش تیواری

- فنکار: رنبیر کپور، یش، سائی پلوی، روی دوبے، رکل پریت سنگھ، لارا دتہ، ارون گوول، انوپم کھیر، آدیناتھ کوٹھارے، وویک اوبرائے، سوربھ سچدیوا

ریٹنگ:

½ (3.5/5)٭٭٭

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande