
نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س):
سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ کی پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) تداشا مشرا کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے منافی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ریاستی حکومت اور تداشا مشرا سے جواب طلب کیا ہے۔
عدالت مرکزی حکومت کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ”پولیس ڈائریکٹر جنرل و انسپکٹر جنرل، جھارکھنڈ (پولیس فورس کے سربراہ) ضابطہ 2025“ کے تحت کیے گئے انتخاب اور تقرری کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے تبصرہ کیا کہ جھارکھنڈ حکومت کا 2025 کا ضابطہ، جس کے تحت چھ ماہ سے کم مدتِ ملازمت باقی رکھنے والے افسر کو بھی ڈی جی پی بنایا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے 2019 کے تاریخی پرکاش سنگھ فیصلے کے رہنما اصولوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کسی حتمی فیصلے سے قبل تداشا مشرا کا موقف سننا ضروری ہے، لہٰذا انہیں اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو قواعد پر نظرثانی میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکز نے صرف جھارکھنڈ کو ہی نشانہ کیوں بنایا ہے، جبکہ اسی نوعیت کے ضوابط دیگر ریاستوں میں بھی موجود ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں مقرر کردہ امیکس کیوریے (عدالتی معاون) سینئر وکیل راجو رام چندرن کو ہدایت دی ہے کہ وہ دیگر ریاستوں میں ڈی جی پی تقرری سے متعلق قوانین اور ضوابط کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔
مرکزی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سینئر آئی پی ایس افسر تداشا مشرا کو 30 دسمبر 2025 کو، یعنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل، جھارکھنڈ کا ڈی جی پی مقرر کیا گیا، جو سپریم کورٹ کے پرکاش سنگھ فیصلے کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ