
نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س):۔
صدر دروپدی مرمو سے ’انڈیا‘ اتحاد کے رہنماو¿ں کی ملاقات کے لیے وقت نہ ملنے پر کانگریس نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت حملہ کیا ہے۔
دہلی کے کناٹ پلیس میں احتجاج کے دوران کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے نمائندہ وفد نے صدر سے ملاقات کے لیے باضابطہ درخواست کی تھی، لیکن اب تک راشٹرپتی بھون کی جانب سے ملاقات کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی جانب سے ملاقات کی پہلی درخواست 2 اکتوبر کو بھیجی گئی تھی۔ اس کے بعد راشٹرپتی بھون کے دفتر نے ان رہنماو¿ں کے نام طلب کیے جو وفد میں شامل ہونے والے تھے۔ اپوزیشن نے 5 اکتوبر کو تمام رہنماو¿ں کے ناموں کی فہرست کے ساتھ دوبارہ خط بھیجتے ہوئے 7، 8 یا 9 اکتوبر میں سے کسی ایک دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی، لیکن اب تک انہیں کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعرات تک اس سلسلے میں جواب کا انتظار کریں گے۔
مرکزی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے وینوگوپال نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مل کر ہندوستانی جمہوریت میں افراتفری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت جمہوری اداروں اور نظام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔
وینوگوپال نے کہا کہ ملک کے عام ووٹروں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ اپوزیشن کے لیے ’کرو یا مرو‘ کی لڑائی ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
واضح رہے کہ ’انڈیا‘ اتحاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ