کینسر کی دوائیں سستی ہوں گی، مریضوں پر مالی بوجھ کم ہوگا
نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س): ۔ کینسر کے مریضوں کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت نے بعض کینسر مخالف ادویات پر دکانداروں اور تقسیم کاروں کے منافع کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان ادویات پر تجارتی منافع (ٹریڈ مارجن) زیادہ سے زیادہ 30 ف
کینسر کی دوائیں سستی ہوں گی، مریضوں پر مالی بوجھ کم ہوگا


نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س): ۔

کینسر کے مریضوں کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت نے بعض کینسر مخالف ادویات پر دکانداروں اور تقسیم کاروں کے منافع کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان ادویات پر تجارتی منافع (ٹریڈ مارجن) زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک محدود ہوگا۔

یہ ضابطہ برانڈیڈ اور جینیرک، ملک میں تیار کی جانے والی اور بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی تمام متعلقہ ادویات پر نافذ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے بعض کینسر کی دواو¿ں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے کینسر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو علاج کے اخراجات میں بڑی راحت ملے گی اور مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کی امید ہے۔

یہ اقدام 2019 میں کیے گئے فیصلے کا تسلسل ہے، جب 526 برانڈز کی ادویات پر تجارتی منافع کو محدود کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مریضوں کو سالانہ تقریباً 984 کروڑ روپے کی بچت ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے اس نئے فیصلے کا مقصد کینسر کے علاج کو مزید سستا اور مریضوں کے لیے آسان بنانا ہے۔ اس اقدام سے مریضوں کے ذاتی اخراجات (آو¿ٹ آف پاکٹ اخراجات) میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande