اپوزیشن کے خلاف دہلی پولیس کا رویہ جمہوریت مخالف اور عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے : پروفیسر سلیم انجینئر
جماعت اسلامی ہند کا پولیس سے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر آئینی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ نئی دہلی،08اکتوبر (ہ س )۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں اور اپوزیشن لیڈروں کی حراست پر تشویش کا اظہار
اپوزیشن کے خلاف دہلی پولیس کا رویہ جمہوریت مخالف اور عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے : پروفیسر سلیم انجینئر


جماعت اسلامی ہند کا پولیس سے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر آئینی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ

نئی دہلی،08اکتوبر (ہ س )۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں اور اپوزیشن لیڈروں کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، بہرحال عوام کے نمائندے ہیں اور جمہوریت میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایک مو¿ثراپوزیشن کے بغیر جمہوریت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں اور ان کے ساتھ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس جس طرح کا برتاو¿ کر رہی ہے وہ انتہائی افسوس ناک اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ سلیم انجینئرنے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس اور تمام متعلقہ ادارے جمہوری طرزعمل اختیار کریں اور حکومت کے دباو¿ میں آئے بغیر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کریں۔

6 اور 7 اکتوبر کو آکاشوانی بھون اور جنتر منتر کے قریب اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ مظاہرین اور سیاسی لیڈران کو احتجاج کرنے سے روکنا ان مسائل کو حل نہیں کرسکتا جو وہ اٹھا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اس سے پہلے بھی پرامن جمہوری احتجاج کے خلاف پولیس کی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس حراست اور بلاجواز ایف آئی آر کے سلسلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پولیس کے ناروا سلوک سے متعلق الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور اس میں ملوث پائے جانے والےپولیس اہلکاروں کے خلاف جواب دہی طے کی جائے۔

سلیم انجینئرنے کہا کہ میڈیا کی ایسی رپورٹوں کو پڑھ کربھی تشویش ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنتر منتر اور دہلی کے اطراف کے احتجاج کو روکنے کے لیے تقریباً 38,000 سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف استعمال کرنا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کے ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد اٹھ رہا ہے اور ہماری جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوام سے متعلق مسائل پر اپنی آواز بلند کرے۔ جب اپوزیشن ایسے مسائل اٹھاتی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرے، اس کی بات سنے اور اس کے خدشات کو دور کرے۔ حکومت اگر اپوزیشن کے مو¿قف سے اتفاق نہ بھی کرتی ہو، تب بھی اسے چاہیے کہ مشاورت اور مکالمے کے ذریعے شکایات کے اظہار کا موقع فراہم کرے۔ہم حکومت اور پولیس سے اپیل کرتے ہیں کہ پ±رامن عوامی مظاہرے کو روکا نہ جائے اورعوام کے تحفظ کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ عوامی نمائندوں اور مظاہرین کے ساتھ جس انداز میں سلوک کیا جا رہا ہے، اس کے اثرات موجودہ احتجاج تک محدود نہیں ہیں۔ اس طرح کی صورت حال ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور دنیا کے سامنے ملک کی جمہوری شبیہ پر ایک سنگین داغ بن جاتی ہے۔

سلیم انجینئر نے کہا کہ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سیاسی اپوزیشن، پ±رامن احتجاج اور آئینی آزادیوں کا احترام ہندوستان کے جمہوری تشخص اور عالمی سطح پر اس کے مقام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande