
نئی دہلی ،08اکتوبر (ہ س )۔
معروف عالم دین، جلیل القدر عربی ادیب، صاحبِ قلم مصنف، صحافی، داعی و مربی اور دارالعلوم ندوة العلماء ، لکھنو¿ کے مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی وفات ہندوستان کی علمی و دینی دنیا کے لیے ایک بڑا سانحہ اور عربی زبان و ادب کے میدان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
اس حادثے پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے سکریٹری جنرل جناب محمد عالم نے کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اپنی پوری زندگی علم و تعلیم، تصنیف و تالیف، دعوت و تربیت اور عربی زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ایک طویل عرصے تک ندوة العلماء سے وابستہ رہے اور تدریس و تربیت کے ساتھ ادارے کی انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔ عربی صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں، بالخصوص مشہور عربی مجلہ البعث الاسلامی سے ان کی طویل وابستگی نے ہندستان اور عالم عرب کے درمیان علمی و فکری روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں عربی زبان و ادب کے لیے خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند کی جانب سے صدارتی ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔
جناب محمد عالم نے مولانا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور اس کے بانی و مو¿سس ڈاکٹر محمد منظور عالم کے ساتھ بھی حضرت مولانا سعیدالرحمان اعظمی ندوی کے گہرے علمی و فکری روابط قائم تھے۔ مولانا IOS کی علمی سرگرمیوں کی بہت قدر کرتے تھے۔ انہوں نے ادارے کے متعدد پروگراموں، سیمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت فرمائی اور بعض اہم علمی اجتماعات میں افتتاحی و کلیدی خطابات بھی کیے۔ 2018 میں آئی او ایس کے زیر اہتمام پروفیسر اسماعیل راجی الفاروقی پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں مولانا نے افتتاحی خطاب کیا، 2019 میں علامہ حبیب الرحمن اعظمی? کی حیات و خدمات پر IOS کی قومی کانفرنس میں بھی مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی? شریک تھے۔ اس تعلق کا ایک روشن پہلو اس طرح بھی سامنے آیا تھا کہ آئی او ایس نے مولانا کی خدمت میں پانچواں آئی او ایس لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ میں پیش کرنے کا شرف حاصل کیا تھا.
محمد عالم نے مولانا کے علمی ورثہ کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی وفات سے دارالعلوم ندوة العلماء ، عربی زبان و ادب، ہندوستانی دینی مدارس اور علمی و تحقیقی حلقوں میں ایک نمایاں خلا پیدا ہوگیا ہے۔ امید ہے کہ ان کے تلامذہ، علمی وابستگان اور ان سے فیض اٹھانے والے افراد ان کی علمی و اخلاقی میراث کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ ہم آئی او ایس کی جانب سے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے اہلِ خانہ، ندوة العلماء کے اساتذہ و طلبہ، ان کے تلامذہ، رفقا اور تمام متعلقین کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais