
اسٹاک ہوم، 8 اکتوبر (ہ س)۔
کینیڈا کی مصنفہ این کارسن کو سال 2026 کا ادب کا نوبل انعام دیا جائے گا۔ انہیں قدیم یونانی اور رومی ادب کو نئے انداز میں پیش کرنے اور تحریر کے نئے تجربات کے لیے اس اعزاز سے نوازا جائے گا۔
نوبل کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کے روز اسٹاک ہوم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کارسن کے نام کا اعلان کیا۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ 76 سالہ کارسن اپنی ان تخلیقات کے لیے مشہور ہیں جو اکثر شاعری، فکشن اور علمی و تحقیقی مطالعے کے درمیان کی سرحدوں کو پار کرتی ہیں۔ یہ انعام ان کے دلیرانہ اور تخلیقی ادبی کارناموں کے لیے دیا گیا ہے، جنہوں نے کلاسیکی روایت کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ قائم کرتے ہوئے عصری ادب کے لیے نئی شکلیں متعین کی ہیں۔ نوبل انعام کسی مصنف کی پوری زندگی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اسے عالمی ادب کا سب سے باوقار اعزاز تسلیم کیا جاتا ہے۔
نوبل کمیٹی کے چیئرمین اینڈرس اولسن کے مطابق کارسن 21 جون 1950 کو ٹورنٹو میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ 1979 سے امریکہ اور کینیڈا کی متعدد یونیورسٹیوں میں کلاسیک، تقابلی ادب اور تخلیقی تحریر جیسے مضامین پڑھا رہی ہیں۔ اولسن کے مطابق کارسن کا ادب قدیم یونانی روایت اور جدید زندگی کے تجربات کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ شاعری، ترجمہ، مضمون نگاری، فکشن اور بصری فنون (ویژول آرٹس) کے درمیان نئے روابط قائم کرنے کی ان کی صلاحیت نے 1990 کی دہائی سے بین الاقوامی ادب اور فن کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
کارسن نے 1981 میں کلاسیک کے موضوع پر ’اوڈی ایٹ امو ایرگو سم‘ کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ شائع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شاعری لکھنے کے ساتھ ساتھ قدیم یونانی ادب کا ترجمہ کرنے اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی تخلیقات میں لفظوں کے ماخذ اور ان کے نئے معانی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے قدیم یونانی شاعرہ سیفو کے کلام اور ڈراما نگار سوفوکلیز کے ڈراموں ’الیکٹرا‘ اور ’اینٹیگنی‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔
نوبل کمیٹی کے مطابق جمعہ کے روز سال 2026 کے امن کے نوبل انعام کا اعلان کیا جائے گا۔ اس سے قبل طبیعیات، کیمیا اور طب کے شعبوں میں نوبل انعامات کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
گزشتہ 10 سالوں میں ادب کا نوبل انعام 10 مصنفین کو ملا، جن میں 5 خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے 6 نے انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں لکھا، جبکہ 6 انعام یافتگان کا تعلق یورپ سے رہا۔ سال 2024 میں جنوبی کوریا کی ہان کانگ ایشیا سے یہ اعزاز جیتنے والی ادیبہ تھیں۔ اس عرصے کے دوران جنوبی ایشیا سے کوئی بھی ادیب یہ انعام حاصل نہ کر سکا۔
کارسن کی سال 1986 میں شائع ہونے والی طویل انشائیائی کتاب ’ایروس دی بٹر سویٹ‘ ان کی آگے کی ادبی تخلیقات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اس میں انہوں نے محبت کے دیوتا ’ایروس‘ کو شاعری کا بنیادی عنصر اور اس کی محرک قوت قرار دیتے ہوئے محبت میں پوشیدہ لطف اور اذیت کے تضاد کا تجزیہ کیا ہے۔ سیفو کی ایک تعبیر سے متاثر یہ کتاب محبت کرنے والے اور محبت کا مرکز بننے والے کے درمیان کے فاصلے کو محبت کی طاقت کا اصل منبع قرار دیتی ہے۔
کارسن کے طرزِ تحریر کی خاصیت مختلف آوازوں، زاویہ ہائے نگاہ اور ادبی روایات کو بیک وقت پیش کرنا ہے۔ وہ اسے ایک ایسی نگاہ کے طور پر دیکھتی ہیں جس میں دو مختلف نقطہ ہائے نظر کو ایک ساتھ متوازن رکھا جا سکے۔ ان کی کتاب ’اکانومی آف دی ان لوسٹ‘ (1999) میں چھٹی صدی قبل مسیح کے یونانی شاعر سیمونیڈس آف کیوس کا موازنہ پال سیلان سے کیا گیا ہے۔ وہیں، ’مین ان دی آف آورز‘ (2000) میں مورخ تھیوسیڈائیڈز اور ادیبہ ورجینیا وولف کے افکار کو یکجا کیا گیا ہے۔
اس نوعیت کے غیر متوقع ادبی امتزاج کے ذریعے کارسن نے خود کلامی اور روایتی بیانیہ شاعری کی حدود کو توڑا اور معاصر ادب میں نئے تجربات کی راہ ہموار کی۔ ان کی تحریریں قدیم اور جدید شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی اصناف اور فن کے روپوں کے درمیان نہایت روانی سے سفر کرتی ہیں۔
سال 1990 کی دہائی میں کارسن نے متعدد نمایاں کتب شائع کیں۔ ان میں ’گلاس، آئرنی اینڈ گاڈ‘ (1995) کے مجموعے میں شامل طویل نظم ’دی گلاس ایسے‘ خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہ تخلیق شاعری، افسانے اور مضمون کی سرحدوں کو باہم ملا دیتی ہے۔
نظم کی صورت میں لکھی گئی یہ تخلیق دکھ، جدائی اور یکطرفہ محبت کی داستان بھی ہے۔ اس میں ایک خاتون، جسے اس کا شوہر چھوڑ چکا ہے، اپنی تنہا ماں سے ملنے کے لیے ایک ویران دلدلی علاقے کا سفر کرتی ہے۔ اس سفر میں وہ اپنی پسندیدہ ادیبہ ایملی برونٹے کی تحریریں ساتھ لے جاتی ہے۔ برونٹے کی تخلیقات میں بیان کردہ قدرتی ماحول اور ان کی اندرونی دنیا اس نظم میں اس طرح سموئی ہوئی ہے کہ تین تنہا خواتین کی زندگی اور تجربات کے آئینے میں ترکِ تعلق اور تنہائی کی تہہ در تہہ پرکھ کی جاتی ہے۔
کارسن کے مخصوص اسلوب میں شاعری اور کہانی ایک دوسرے کو نئے معانی بخشتے ہیں۔
کارسن نے ایک بار بوریت (اکتاہٹ) کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا تھا۔ اپنی تحریروں میں وہ مزاح، تیکھے طنز اور دانشورانہ ستم ظریفی کے ذریعے اس کا مقابلہ کرتی ہیں۔
کارسن کی سال 2010 میں شائع شدہ کتاب ’نوکس‘ ان کے سب سے زیادہ جذباتی اور اثر انگیز کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ انہوں نے اپنے بھائی مائیکل کی یاد میں لکھی تھی، جن کا سال 2000 میں ڈنمارک میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی عدم موجودگی اور موت سے جڑا اسرار اس تخلیق کا جذباتی پس منظر بنتا ہے۔
’نوکس‘ محض ایک ادبی شاہکار ہی نہیں بلکہ ایک فنی ڈھانچہ بھی ہے۔ اسے ایک ڈبے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، جس کے اندر اکارڈین کی طرح کھلنے والی پٹی پر تصاویر، خطوط اور دیگر تحریری مواد موجود ہیں۔ یہ سارا مواد مرحوم بھائی کی یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن