موسمیاتی آفات پر آئی پی یو اسمبلی میں نیپال کی تجویز ہنگامی مد کے طور پر قبول
نئی دہلی، 08 اکتوبر (ہ س)۔ تنزانیہ کے اروشا میں منعقد بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی میں نیپال کی طرف سے پیش کردہ اور ہندوستان سمیت دیگر ممالک کی تائید یافتہ موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوری پارلیمانی کارروائی کی تجویز کو بدھ
راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش تنزانیہ کے اروشا میں منعقد انٹر پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی میں


نئی دہلی، 08 اکتوبر (ہ س)۔ تنزانیہ کے اروشا میں منعقد بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی میں نیپال کی طرف سے پیش کردہ اور ہندوستان سمیت دیگر ممالک کی تائید یافتہ موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوری پارلیمانی کارروائی کی تجویز کو بدھ کے روز ہنگامی مد کے طور پر منظور کر لیا گیا۔ ہندوستانی پارلیمانی وفد نے اس تجویز کو ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لیا۔

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کی قیادت میں ہندوستانی وفد نے اسمبلی کے تیسرے دن مختلف اجلاس اور مباحثوں میں شرکت کی۔

ہری ونش نے ’’شمولیت، اعتماد اور سب کے لیے مواقع کے ذریعے گڈ گورننس کو فروغ دینا اور برادریوں کو بااختیار بنانا‘‘ کے موضوع پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ سے شفافیت کو مضبوط کرنے، جوابدہی برقرار رکھنے اور عوام کا اعتماد قائم رکھنے پر زور دیا۔

آئی پی یو کے صدر نے ووٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ نیپال کی تجویز ’’موسمیاتی آفات سے نمٹنے اور ہمالیائی خطے نیز دیگر حساس علاقوں میں متحرک عمل کو مستحکم کرنے کے لیے فوری پارلیمانی کارروائی‘‘ کو ہنگامی مد کے طور پر اپنا لیا گیا ہے۔

وفد کے ارکان نے روسی وفاقی اسمبلی کی فیڈریشن کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کونسٹنٹن کوساچیف کے ساتھ دوطرفہ میٹنگ کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ہری ونش نے آئی پی یو کی سبکدوش ہونے والی صدر تولیا ایکسن سے بھی ملاقات کی اور تنظیم کے کام کاج کو ہمہ جہت و فعال بنانے اور پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم کرنے کی ان کی کوششوں کی ستائش کی۔

اس دوران لوک سبھا کے رکن سنجے جیسوال نے مختلف نسلوں میں ذہنی صحت، ڈیجیٹل اوورلوڈ، معاشی دبا اور غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے پر منعقدہ ورکشاپ میں حصہ لیا۔ اپراجیتا سارنگی نے اقوامِ متحدہ کے امور سے متعلق مستقل کمیٹی کے پینل مباحثے میں حصہ لیا، جبکہ بجلی کلیتا میدھی نے سائنس و ٹیکنالوجی پر ورکنگ گروپ اور پائیدار ترقی سے متعلق مستقل کمیٹی کے مباحثے میں شرکت کی۔

کمل جیت سہراوت نے بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے نفاذ میں پارلیمانوں کے کردار پر پینل مباحثے میں حصہ لیا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے لیے اخلاقی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو فروغ دینے سے متعلق ورکشاپ اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام سے وابستہ کمیٹی کی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔ لتا وانکھیڑے نے بدلتے موسم میں صحت بخش غذا کی دستیابی پر ورکشاپ میں حصہ لیا۔

راجیہ سبھا کے رکن سسمت پاترا نے امن اور بین الاقوامی سیکورٹی پر مستقل کمیٹی کی ماہرانہ سماعت میں حصہ لیا۔ اس میں تنازعات کے دوران سمندری سیکورٹی کو مضبوط کرنے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے ذریعے بین الاقوامی بحری نقل و حمل اور عالمی معاشی استحکام کے تحفظ میں پارلیمانوں کے کردار پر بات چیت ہوئی۔

راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل نے آئی پی یو کی نو منتخب سکریٹری جنرل آندا فلپ سے بھی ملاقات کی۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے مطابق، آئی پی یو کی 137 سالہ تاریخ میں آندا فلپ اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں۔ انہوں نے جمہوریت اور امن کو فروغ دینے کی آئی پی یو کی کوششوں کے تئیں ہندوستان کی پارلیمنٹ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande