قرآن مجید سابقہ اقوام کے واقعات سے اصلاحِ ذہن اور محاسبہ کردار کا درس دیتا ہے
جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کی جانب سے آرام پارک میں درسِ قرآن، سورہ بقرہ کی آیات 60 تا 70 کی تشریح نئی دہلی،08اکتوبر (ہ س )۔ جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت آرام پارک میں ہفتہ وار درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں امیرِ مقامی فلا
قرآن مجید سابقہ اقوام کے واقعات سے اصلاحِ ذہن اور محاسبہ کردار کا درس دیتا ہے


جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کی جانب سے آرام پارک میں درسِ قرآن، سورہ بقرہ کی آیات 60 تا 70 کی تشریح

نئی دہلی،08اکتوبر (ہ س )۔

جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت آرام پارک میں ہفتہ وار درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیات نمبر 60 سے 70 تک کا ترجمہ اور تشریح پیش کی۔ درس میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، اطاعتِ الٰہی، شکرگزاری اور احکامِ خداوندی کی پابندی کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 60 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لیے پانی کی فراہمی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ? کے حکم پر پتھر سے بارہ چشمے جاری فرمائے تاکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے اپنی اپنی جگہ سے پانی حاصل کریں۔ اس واقعے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے، ساتھ ہی زمین میں فساد اور حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

آیات 61 تا 63 میں بنی اسرائیل کی ناشکری اور نافرمانی کا ذکر ہے۔ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے بجائے مختلف قسم کی غذاو¿ں کا مطالبہ کیا اور دنیاوی خواہشات کو ترجیح دی۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا اور اس کے احکام سے روگردانی کرنا انسان کو خسارے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لینے اور اس عہد کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید فرمائی۔

آیات 64 تا 66 میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عہد لینے کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ اس سے پھر گئے۔ قرآن ایسے واقعات کو عبرت کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ بعد کے لوگ ان غلطیوں کو نہ دہرائیں۔ ہفتہ وار درس میں اس پہلو پر زور دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو جاننا کافی نہیں بلکہ ان پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

آیات 67 تا 70 میں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیے جانے کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ واضح اور سادہ حکم ملنے کے باوجود انہوں نے بار بار سوالات اور حیلے بہانے کیے، جس سے حکم پر عمل میں تاخیر ہوتی گئی۔ اس واقعے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے سامنے غیر ضروری بحث، ٹال مٹول اور حیلہ سازی کے بجائے اطاعت اور فرمانبرداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

درسِ قرآن میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ سورہ بقرہ کی ان آیات میں انسان کے لیے شکرگزاری، اللہ کی نعمتوں کی قدر، عہد کی پابندی، احکامِ الٰہی کی اطاعت، ناشکری اور نافرمانی سے اجتناب کا واضح پیغام موجود ہے۔ قرآنِ مجید سابقہ اقوام کے واقعات کو محض تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ زندگی کی اصلاح اور اپنے کردار کا محاسبہ کرنے کے لیے بیان کرتا ہے۔

اس موقع پر امیر الحق قاسمی صاحب، صایم صاحب، مشرف صاحب، لال محمد صاحب سمیت متعدد افراد موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande