ہندوستان نے 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس میں علاقائی توانائی تعاون پر زور دیا
نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستان نے فلپائن کے منیلا میں منعقدہ 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس میں توانائی کے وزرا کی میٹنگ کے دوران علاقائی توانائی تعاون اور توانائی سلامتی پر زور دیا۔ بجلی کی وزارت نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ مرکزی
ہندوستان نے 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس میں علاقائی توانائی تعاون پر زور دیا


نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستان نے فلپائن کے منیلا میں منعقدہ 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس میں توانائی کے وزرا کی میٹنگ کے دوران علاقائی توانائی تعاون اور توانائی سلامتی پر زور دیا۔ بجلی کی وزارت نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے بجلی و جدید اور قابل تجدید توانائی شری پد یسو نائک نے آج فلپائن کے منیلا میں منعقدہ 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس کی توانائی وزرا کی میٹنگ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں علاقائی توانائی تعاون، توانائی سلامتی اور محفوظ، بااختیار، سستی اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے تئیں ہندوستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ مرکزی وزیر نے ہندوستان کی ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی اور آسیان کے ساتھ وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیتے ہوئے توانائی تعاون کے لیے آسیان ایکشن پلان 2026-2030 کا خیرمقدم کیا۔

نائک نے 20ویں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آسیان پاور گرڈ، علاقائی بجلی کی ترسیل، کثیر ملکی بجلی تجارت، صاف توانائی اور توانائی سلامتی سمیت آسیان-ہندوستان ایکشن پلان 2026-2030 کے تحت تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2025 میں منعقدہ 22ویں آسیان-ہندوستان سربراہ اجلاس کے دوران گرڈ کنیکٹیویٹی کے تحت 400 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کے ذریعے آسیان پاور گرڈ پہل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

مرکزی وزیر نے اپنے خطاب میں ہندوستان کے بجلی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 30 ستمبر 2026 تک ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 558.8 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سے 308 گیگا واٹ کی صلاحیت غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جو کل نصب شدہ صلاحیت کا 55 فیصد ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم سوریہ گھر اسکیم کے تحت ہونے والی پیش رفت کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر 2026 تک تقریباً 50.1 کروڑ روف ٹاپ سولر پینل نصب کیے جا چکے ہیں، جن سے 59.5 کروڑ گھروں کو فائدہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے 2030 کے قومی ترقیاتی ہدف (این ڈی سی) سے پانچ سال پہلے ہی جون 2025 تک غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد حاصل کر لیا تھا۔

نائک نے کہا کہ ہندوستان اور سنگاپور مجوزہ 2,000 میگاواٹ سرحد پار بجلی رابطے کے متبادل امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ زیر غور متبادل میں تقریباً 3,000 کلومیٹر طویل زمینی ترسیلی راہداری بھی شامل ہے، جو ہندوستان کے امپھال کو میانمار، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے راستے سنگاپور سے جوڑے گی۔ اس منصوبے میں قابل اعتماد سرحد پار بجلی تجارت کو آسان بنانے، صاف توانائی کے انضمام کو فروغ دینے اور علاقائی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کی صلاحیت ہے۔

نائک نے قابل تجدید توانائی کے وسیع پیمانے پر استعمال، گرڈ انضمام، ترسیلی منصوبہ بندی، توانائی ذخیرہ کرنے، گرین ہائیڈروجن اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز میں ہندوستان کے تجربے کو ای اے ایس کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے این ٹی پی سی، پاور گرڈ، سی ای اے، این آئی ڈبلیو ای، این آئی ایس ای اور این پی ٹی آئی سمیت ہندوستانی اداروں اور آسیان انرجی سینٹر کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کی بھی اپیل کی۔

نائک نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر، ہنگامی تیاری، بجلی کے نظام کی مضبوطی، ایل این جی اور گیس کی فراہمی کی سلامتی، قابل تجدید توانائی کی پیش گوئی، بیٹری انرجی اسٹوریج، گرین ہائیڈروجن اور دیگر ابھرتی ہوئی توانائی ٹیکنالوجیز پر تعاون کے امکانات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے شریک ممالک کی ترجیحات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سی سی یو ایس اور کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم پر آسیان شراکت داروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور تعاون میں ہندوستان کی دلچسپی بھی ظاہر کی۔

مرکزی وزیر نے ہندوستان کی جانب سے آسیان پاور گرڈ سے متعلق جدید مفاہمت نامے کے نفاذ اور کثیر ملکی بجلی تجارت کو وسعت دینے کی آسیان کی کوششوں کی حمایت کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande