اے ایم یو پولی ٹیکنک میں پائیدار ٹکنالوجیز میں اختراعات پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد
اے ایم یو پولی ٹیکنک میں پائیدار ٹکنالوجیز میں اختراعات پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد علی گڑھ, 07 اکتوبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پولی ٹیکنک کے میکینیکل انجینئرنگ سیکشن نے پائیدار ٹکنالوجیز میں اختراعات کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس من
پولیٹکنک


اے ایم یو پولی ٹیکنک میں پائیدار ٹکنالوجیز میں اختراعات پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد

علی گڑھ, 07 اکتوبر (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پولی ٹیکنک کے میکینیکل انجینئرنگ سیکشن نے پائیدار ٹکنالوجیز میں اختراعات کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جس میں محققین، صنعتی شعبے سے وابستہ ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی اور ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیز، پائیدار انجینئرنگ کے طریق ہائے کار اور موجودہ ماحولیاتی و تکنیکی چیلنجوں کے لیے اختراعی حل پر غور و خوض کیا۔

پرو وائس چانسلرپروفیسر محمد محسن خان، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر محمد اطہر انصاری اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ٹیچرز ٹریننگ اینڈ ریسرچ، چنڈی گڑھ کے پروفیسر روپندر سنگھ نے مہمانانِ اعزازی کی حیثیت سے پروگرام میں شرکت کی۔ پروفیسر نثار احمد، ڈین، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی اور پروفیسر مجیب احمد انصاری، پرنسپل، یونیورسٹی پولی ٹیکنک کانفرنس کے سرپرست اور ڈاکٹر محمد آصف حسن، انچارج، میکینیکل انجینئرنگ سیکشن، یونیورسٹی پولی ٹیکنک شریک سرپرست تھے۔

پروفیسر محمد محسن خان نے تیز رفتار تکنیکی ترقی اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خدشات کے درمیان پائیدار ٹکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پروفیسر محمد اطہر انصاری نے پائیدار ماحول کی تعمیر میں جدید ٹکنالوجیز کے کردار پر زور دیا، جبکہ پروفیسر نثار احمد نے انجینئرنگ اور صنعتی ترقی سے متعلق ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پائیدار طریق ہائے کار اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سے قبل مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر مجیب احمد انصاری نے کہا کہ کانفرنس اختراعی خیالات کے تبادلے، تعلیمی و صنعتی شعبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے تکنیکی چیلنجوں کے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

پروفیسر روپندر سنگھ نے پائیدار اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی پیداوار کے لیے ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں پر گفتگو کی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد صہیب نے صنعتی نظام اور روزمرہ کی زندگی میں روبوٹکس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ انطالیہ بلم یونیورسٹی، ترکی کے پروفیسر شمائل اولگین نے پائیداری کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گفتگو کی، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، سورتھکل کے پروفیسر رضوان الرحمٰن نے ڈوپڈ گرافین کوانٹم ڈاٹ-96پولیمر مرکبات اور جدید توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹکنالوجیز میں ان کے ممکنہ استعمال سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی۔

کانفرنس میں محققین، اسکالرز اور صنعتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی جانب سے 100 سے زائد تحقیقی مقالے موصول ہوئے، جن میں جدید مینوفیکچرنگ، پائیدار ٹکنالوجیز، اختراعی انجینئرنگ حل، آٹومیشن، ذہین نظام اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ کانفرنس نے انٹرڈسپلینری علمی تبادلے اور تکنیکی طور پر قابلِ عمل اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دارانہ حل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون پر مبنی طریق ہائے کار پر غور و خوض کا موقع فراہم کیا۔

کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر واصف اللہ خان، ڈاکٹر محمد یونس خان اور ڈاکٹر محمد اسرار اقبال تھے، جبکہ ڈاکٹر عبد الفہیم خازن تھے۔ ڈاکٹر احمد سعود، ڈاکٹر مرزا شارق بیگ اور ڈاکٹر عمیر عارف شریک کنوینر تھے۔ ڈاکٹر سمیرا نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کی، جبکہ ڈاکٹر محمد آصف حسن نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔

اختتامی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عبد الفہیم نے کی۔ اس دوران شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور بہترین تحقیقی مقالوں کو انعامات پیش کیے گئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande