ملک کے تقریباً ایک چوتھائی کپاس کے رقبے میں غیر مجاز ایچ ٹی بی ٹی کپاس کی کاشت، کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی نہیں مل رہی
نئی دہلی، 7 اکتوبر (ہ س)۔ ملک میں غیر مجاز جڑی بوٹی مار ادویات برداشت کرنے والی (ہربیسائڈ ٹالرینٹ) بی ٹی کپاس کی کاشت کا دائرہ تیزی سے بڑھا ہے۔ ایک نئے مطالعے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے تقریباً ایک چوتھائی کپاس کے رقبے میں غیر مجاز ایچ ٹی بی ٹی
کپاس


نئی دہلی، 7 اکتوبر (ہ س)۔ ملک میں غیر مجاز جڑی بوٹی مار ادویات برداشت کرنے والی (ہربیسائڈ ٹالرینٹ) بی ٹی کپاس کی کاشت کا دائرہ تیزی سے بڑھا ہے۔ ایک نئے مطالعے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے تقریباً ایک چوتھائی کپاس کے رقبے میں غیر مجاز ایچ ٹی بی ٹی کپاس کی کاشت ہو رہی ہے۔

مطالعے کے مطابق خریف 2025تا2026 میں 65 سے 72 لاکھ ایکڑ رقبے میں ایچ ٹی بی ٹی کپاس کی کاشت کی گئی، جو ملک کے کل کپاس کے رقبے کا تقریباً 24 سے 30 فیصد ہے۔ رپورٹ میں اس سے متعلق غیر مجاز بیجوں کی تجارت کا حجم تقریباً 1,500 کروڑ روپے تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ مطالعہ ساؤتھ ایشیا بایوٹیکنالوجی سینٹر نے فیڈریشن آف سیڈ انڈسٹری آف انڈیا (ایف سی آئی آئی) اور نیشنل سیڈ ایسوسی ایشن آف انڈیا (این ایس اے آئی) کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

ایف سی آئی آئی اور این ایس اے آئی کے عہدیداروں نے بدھ کو دی اوبرائے ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کپاس کی صنعت شدید بحران کا شکار ہے۔ کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہو پا رہی، جس کے باعث بڑے پیمانے پر غیر قانونی یا غیر مجاز بیجوں کے ذریعے وسیع رقبے میں کپاس کی کاشت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کپاس کی غیر مجاز یا غیر قانونی کاشت سے متعلق تعلیمی، تجارتی اور سرکاری رپورٹس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کسی مسئلے کا تجزیہ کرتے وقت اہم ہوتی ہیں۔ اس رپورٹ کے لیے مہاراشٹر، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور راجستھان کے 16 اضلاع میں کسانوں کا سروے کیا گیا، بیجوں کی سپلائی چین کا جائزہ لیا گیا اور اینزائم لنکڈ امیونوسوربینٹ اسی (ای ایل آئی ایس اے) کے ذریعے کپاس کے جینیاتی ٹیسٹ کیے گئے۔

مطالعے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھیتوں سے لیے گئے نمونوں میں سے 98.2 فیصد میں کم از کم ایک جی ایم خصوصیت پائی گئی۔ وہیں 41.9 فیصد نمونوں میں چار ٹرانس جینز پر مشتمل ’کواڈرپل اسٹیک‘ پایا گیا۔ ان میں VIP3A جین بھی شامل تھا، جس کا تعلق کیڑوں کے خلاف مزاحمت سے ہے اور جسے بھارت میں اب تک منظوری نہیں ملی ہے۔

انڈین سوسائٹی فار کاٹن امپروومنٹ کے صدر اور ساؤتھ ایشیا بایوٹیکنالوجی سینٹر کے صدر ڈاکٹر سی ڈی مائی نے کہا کہ غیر منظور شدہ جینز اور گلائفوسیٹ کے بے قابو استعمال سے کیڑوں اور جڑی بوٹیوں میں مزاحمت بڑھنے کا خطرہ ہے، جس کا اثر کپاس کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال اسی وقت ممکن ہے جب وہ قانونی اور ضابطہ جاتی دائرے میں ہو۔

ڈاکٹر مائی نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کھیتوں میں مزدوروں کی کمی اور جڑی بوٹیوں کی صفائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ایچ ٹی بی ٹی کپاس کی طرف کسانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

گلائفوسیٹ کے ذریعے جڑی بوٹیوں پر قابو پانے کی لاگت 750 سے 850 روپے فی ایکڑ آتی ہے، جبکہ دستی طور پر جڑی بوٹیاں صاف کرنے کی لاگت 12,000 سے 15,000 روپے فی ایکڑ تک پہنچ جاتی ہے۔

مطالعے میں گلائفوسیٹ کے استعمال میں بھی ایک سال کے دوران 26 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 2024تا2025 میں اس کا استعمال 27,721 کلو لیٹر سے بڑھ کر 2025تا2026 میں 35,642 کلو لیٹر ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کا کچھ حصہ اب غیر مجاز نیٹ ورک کے ذریعے 20 لیٹر کے ڈرموں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

ایف ایس آئی آئیا کے چیئرمین اجے رانا نے بتایا کہ کپاس کی صنعت شدید بحران کا شکار ہے اور کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ سیاسی عزم کی کمی ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر غیر قانونی یا غلط قسم کے بیجوں سے وسیع رقبے میں کپاس کی کاشت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان اپنی مرضی سے قانون سے باہر جا کر بیج نہیں خرید رہے بلکہ دستیاب تکنیکی متبادل کی کمی کے باعث غیر مجاز بازار کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق جب ملک کے تقریباً ایک چوتھائی کپاس کے رقبے کا انحصار غیر مجاز بیجوں پر ہوجائے تو اسے صرف کسان کی غلطی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا، بلکہ یہ ضابطہ جاتی نظام کے سامنے بھی ایک بڑا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے باعث بھارت نے کپاس کی پیداوار میں خود کفالت کھو دی ہے اور اب کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے خود کفالت بحال کرنے اور کپاس کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہربیسائیڈ ٹالرنٹ کپاس اور پنک بال ورم کے خلاف مزاحمت رکھنے والی ٹیکنالوجی کو ضابطہ جاتی منظوری دینا قومی ترجیح بنانے کا مطالبہ کیا۔

مہاراشٹر میں ایچ ٹی بی ٹی کا سب سے زیادہ استعمال

مطالعے کے مطابق مہاراشٹر ایچ ٹی بی ٹی کپاس کے استعمال کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یوتمل میں اس کا تناسب 76 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تلنگانہ میں ایچ ٹی بی ٹی کے استعمال کا تناسب تقریباً 66 فیصد جبکہ آندھرا پردیش میں 49 فیصد بتایا گیا ہے۔ محبوب آباد میں یہ تناسب 82 فیصد اور کرنول میں 75 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

راجستھان میں فی الحال ایچ ٹی بی ٹی کپاس کا استعمال نہایت معمولی بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیج باضابطہ ضابطہ جاتی نظام سے باہر ہونے کی وجہ سے کسانوں کو ان کے معیار کی کوئی ضمانت حاصل نہیں ہوتی۔ بیج سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں کسانوں کے پاس شکایت یا مسئلے کے حل کے لیے بھی مناسب متبادل موجود نہیں ہوتا۔

وقت مقررہ کے اندر ضابطہ جاتی نظام کا مطالبہ

مطالعے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے نئی بیج ٹیکنالوجیز کے لیے شفاف، قابلِ پیش گوئی اور وقت مقررہ کے اندر کام کرنے والا ضابطہ جاتی نظام ضروری ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ منظوری میں تاخیر سے حیاتیاتی تحفظ، کیڑوں میں مزاحمت، بیج کے معیار اور دانشورانہ ملکیت سے متعلق خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande