
ممبئی، 7 اکتوبر(ہ س)۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے بدھ کو کہا کہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) پر ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (ایم ڈی آر)کے طور پر معمولی فیس عائد کیے جانے سے یو پی آئی لین دین کی تعداد پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ملہوترا نے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باعث سرمایہ کاری کے بہاؤ میں کمی آئی ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر موجود دباؤ عارضی مسئلہ ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ملک کا ادائیگی توازن (بیلنس آف پیمنٹس) جلد ہی دوبارہ فاضل پوزیشن میں آ جائے گا۔
مالیاتی پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے دو ماہی جائزے کے بعد مرکزی بینک کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملہوترا نے کہا کہ فی الحال یو پی آئی لین دین کی تعداد میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذاتی طور پر نہیں لگتا کہ معمولی فیس عائد کیے جانے سے لین دین کی تعداد پر کوئی بڑا اثر پڑے گا۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ بینکوں کی قرض فراہمی میں اضافہ آئندہ بھی مضبوط رہنے کی توقع ہے، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو مسلسل مدد ملتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی ضرورت سے زیادہ نقدی کی موجودگی کے دوران قرض فراہم کرنے والی غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی) کے اثاثوں کے معیار پر پڑنے والے منفی اثرات سے آگاہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی بینک کو ایسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ ملہوترا نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بینکنگ نظام میں اضافی نقدی دیکھی گئی ہے، لیکن یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔ملہوترا نے مزید کہا کہ رعایتی سویپ سہولت کے تحت بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں سے تقریباً 133 ارب امریکی ڈالر کی جمع رقم حاصل ہونا ایف سی این آر (بی) اسکیم اور ملک کی مجموعی معاشی بنیادوں کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی)نے گزشتہ ماہ افراد کی جانب سے تاجروں کو کیے جانے والے 2 ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیس تاجروں سے وصول کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan