
اسٹاک ہوم، 7 اکتوبر(ہ س)۔
فرانس کے سائنس داں ہنری بی کاگن اور جاپان کے کینسو سوئی کو سال 2026 کا مشترکہ نوبیل انعام برائے کیمسٹری دیا جائے گا۔ نوبیل کمیٹی نے بدھ کو اسٹاک ہوم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق دونوں سائنس دانوں کو غیر متناسب نامیاتی ترکیب میں غیر خطی اثرات اور خودکارآٹوکیٹلیسس کی دریافت کے لیے اس باوقار اعزاز سے نوازا جائے گا۔ دونوں انعام یافتگان کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز دیا جائے گا۔ اس سال نوبیل انعام کی رقم 1.2 کروڑ سویڈش کرونا، یعنی تقریباً 11.51 کروڑ ہندوستانی روپے ہے، جو دونوں فاتحین میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔ نوبیل انعام یافتگان کو اعزازی سند اور تمغہ بھی دیا جائے گا۔
کاگن اور سوئی کی تحقیق نے کیمسٹری کی ایک اہم پہیلی کو سمجھنے میں مدد دی ہے کہ ایسی کیمیائی تبدیلیوں کو کس طرح قابو میں رکھا جائے جن میں ایک دوسرے کی آئینہ نما تصاویر رکھنے والے دو مختلف سالمات بن سکتے ہیں۔ ان سالمات کو اینینٹیومر کہا جاتا ہے۔
زندگی کے لیے ضروری بہت سے سالمات ان دونوں آئینہ نما شکلوں میں سے صرف ایک شکل میں پائے جاتے ہیں۔ اس خصوصیت کو ہوموچیرالٹی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر زندہ خلیوں میں پائے جانے والے امینو ایسڈ عموماً صرف ایک ہی چیرل شکل میں استعمال ہوتے ہیں۔ سائنس داں طویل عرصے سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ قدرت میں کیمیائی مادوں کی یہ یک طرفہ ترتیب کس طرح وجود میں آئی۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق 96 سالہ ہنری کاگن اور 76 سالہ کینسو سوئی کی دریافتوں نے سائنس دانوں کو غیر متناسب کیمیائی تعاملات کو سمجھنے، انہیں قابو کرنے اور زیادہ خالص مصنوعات تیار کرنے کے نئے ذرائع فراہم کیے ہیں۔ ان تحقیقات سے یہ سمجھنے میں بھی اہم مدد ملی ہے کہ زندگی میں پائی جانے والی یک طرفہ چیرالٹی کی ابتدا کس طرح ہوئی ہوگی۔کینسو سوئی ٹوکیو یونیورسٹی آف سائنس سے وابستہ ہیں، جبکہ ہنری کاغن فرانس کی یونیورسٹی پیرس-سود سے وابستہ ہیں۔
اس کے بعد کینسو سوئی نے خودکار اتپریرک عمل کے شعبے میں اہم پیش رفت کی۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے ایسے غیر متناسب کیمیائی تعاملات تیار کرنے پر کام کیا جن میں بننے والی مصنوعات خود اپنی تشکیل کے عمل کو فروغ دے سکیں۔ بعد میں انہوں نے ایسا کیمیائی عمل تیار کیا جس میں ابتدا میں کسی ایک آئینہ نما شکل کی معمولی سی برتری بھی پورے تعامل پر حاوی ہو سکتی تھی۔ان دریافتوں کی ادویات کی تیاری میں خاص اہمیت ہے۔ کسی دوا کے سالمے کی دو آئینہ نما شکلوں میں سے ایک علاج کے لیے مؤثر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری شکل مختلف یا بعض اوقات نقصان دہ اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے خالص اور مطلوبہ اینینٹیومر تیار کرنا جدید طبی کیمسٹری میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
نوبیل انعامات سویڈن کے معروف سائنس داں الفریڈ نوبیل کی یاد میں دیے جاتے ہیں۔ یہ اعزاز ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے انسانی زندگی اور معاشرے کے لیے نمایاں فائدہ پہنچایا ہو۔ نوبیل انعام امن، ادب، طبیعیات، کیمسٹری، طب اور معاشیات کے شعبوں میں دیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan