
احمد آباد، 7 اکتوبر(ہ س)۔ کامن ویلتھ کیو اسپورٹس چمپئن شپ کے دوسرے ایڈیشن کا بدھ کو احمد آباد میں آغاز ہوگیا۔ اس چمپئن شپ میں دولت مشترکہ کے 42 ممالک کے 144 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلے 8 سے 10 اکتوبر تک ویر ساورکر اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے جائیں گے، جبکہ افتتاحی تقریب 7 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔ یہ باوقار کثیر شعبہ جاتی چمپئن شپ پہلی مرتبہ ہندوستان میں منعقد ہورہی ہے۔
اگلے تین دن احمد آباد میں تجربہ کار چیمپئنز، ابھرتی ہوئی صلاحیتوں اور ہندوستان کے ٹاپ کھلاڑیوں کے درمیان دولت مشترکہ کے خطاب کے لیے مقابلہ ہوگا۔ چمپئن شپ میں 72 مرد اور 72 خواتین کھلاڑی پانچ مقابلوں—انگلش بلیئرڈز، اسنوکر، 10 بال پول، ہائی بال اور بلیک بال—میں حصہ لیں گے۔ چار روزہ ایونٹ میں مجموعی طور پر 10 میڈل مقابلے ہوں گے۔ یہ مقابلہ انڈین بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن کی صد سالہ تقریبات کا بھی اہم حصہ ہے۔
ہندوستان نے 2025 میں ماریشس میں منعقدہ پہلی چمپئن شپ میں پانچ تمغے جیتے تھے۔ اس بار میزبان ملک کی جانب سے موجودہ خواتین ہائی بال کامن ویلتھ چمپئن ودیا پلئی، مردوں کے ہائی بال کے چاندی کا تمغہ جیتنے والے شیوم اروڑہ اور خواتین کے 10 بال پول کی سلور میڈلسٹ چترا مگیمراج نمایاں کھلاڑی ہوں گی۔
ہندوستانی کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی کیلی فشر اور ربیکا کینا، جنوبی افریقہ کے کریگ بوور، ملائیشیا کے لم کوک لیونگ اور ویلز کے ڈیرن مورگن جیسے بین الاقوامی کھلاڑیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔ورلڈ بلیئرڈز اسپورٹس کنفیڈریشن کے نائب صدر مبارک الخیارین نے کہا کہ کامن ویلتھ کیو اسپورٹس چمپئن شپ کھیل کے لیے ایک اہم موقع ہے اور انہیں خوشی ہے کہ اس سال کا ایڈیشن ہندوستان میں منعقد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ کے مختلف حصوں سے ٹاپ کیو اسپورٹس کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے اعلیٰ سطح کے مقابلے کو فروغ ملے گا اور کھیل سے وابستہ عالمی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
کنفیڈریشن کی بورڈ رکن گریٹا اسٹین کیمپ نے بھی ہندوستان میں چمپئن شپ کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، بین الاقوامی کھیلوں کے تعلقات مضبوط کرنے اور کیو اسپورٹس کی عالمی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan