ممبئی میں 2 ہزار سے زیادہ خطرناک اے پی کے فائلیں بنانے والا سافٹ ویئر ڈیولپر گرفتار
ممبئی ، 6 اکتوبر (ہ س): ممبئی کرائم برانچ نے مدھیہ پردیش سے 36 سالہ سافٹ ویئر ڈیولپر کو گرفتار کیا ہے جس پر سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گروہوں کے لیے خطرناک اے پی کے فائلیں تیار کرکے فروخت کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مجموعی طور پر 280
Crime Maha Developer Held Malicious APK Files


ممبئی ، 6 اکتوبر (ہ س): ممبئی کرائم برانچ نے مدھیہ پردیش سے 36 سالہ سافٹ ویئر ڈیولپر کو گرفتار کیا ہے جس پر سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گروہوں کے لیے خطرناک اے پی کے فائلیں تیار کرکے فروخت کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مجموعی طور پر 2805 جعلی اے پی کے فائلیں تیار کرکے سائبر جرائم پیشہ گروہوں کو فروخت کی تھیں۔ تحقیقات میں ان فائلوں کا تعلق ملک بھر میں تقریباً 9673 افراد کے ساتھ ہونے والی سائبر دھوکہ دہی سے سامنے آیا ہے۔ پولیس اب ان سائبر فراڈ گروہوں کی تلاش کررہی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ملزم سے یہ فائلیں خرید کر لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا۔

پولیس کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات ممبئی کے ایک بزرگ شہری کے ساتھ 5.62 لاکھ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کے بعد شروع ہوئی۔ متاثرہ شخص سے رابطہ کرنے والے جعلساز نے خود کو بینک آف انڈیا کا افسر ظاہر کیا اور واٹس ایپ کے ذریعے سینئر سٹیزن کارڈ ویری فکیشن کے نام سے ایک اے پی کے فائل بھیجی۔ الزام ہے کہ اس خطرناک فائل کو متاثرہ شخص کے ساتھ سائبر دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا گیا۔ شکایت سامنے آنے کے بعد ممبئی کرائم برانچ نے تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات شروع کیں اور مختلف سراغ کا جائزہ لیتے ہوئے تفتیش مدھیہ پردیش میں موجود مذکورہ سافٹ ویئر ڈیولپر تک پہنچی۔ اس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کرکے ملزم کو گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران ایک سی پی یو، 3 ہارڈ ڈسک، ایک پین ڈرائیو، ایک وائی فائی راؤٹر اور 3 موبائل فون بھی ضبط کیے گئے۔

مزید تحقیقات میں پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر تیار کی گئی اے پی کے فائلوں سے متعلق 1930 سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 1074 شکایات درج ہیں۔ ان میں مہاراشٹر کی 143 شکایات شامل ہیں جبکہ صرف ممبئی سے 36 شکایات سامنے آئی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کی تیار کردہ خطرناک اے پی کے فائلوں سے منسلک ملک بھر میں اب تک 88 مقدمات کا پتہ چلا ہے۔ ان میں مہاراشٹر کے 8 مقدمات شامل ہیں جن میں سے 5 مقدمات ممبئی میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ ملزم کی تیار کردہ فائلوں کا استعمال ملک کے کن کن علاقوں میں کیا گیا اور ان کے ذریعے کتنے سائبر جرائم انجام دیے گئے۔

تحقیقاتی افسران اب ان سائبر فراڈ گروہوں کی شناخت اور گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر گرفتار سافٹ ویئر ڈیولپر سے یہ خطرناک اے پی کے فائلیں خریدیں اور بعد میں انہیں مختلف لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا۔ پولیس پورے نیٹ ورک، فائلیں خریدنے والے افراد اور گروہوں اور ملک کے مختلف حصوں میں ان فائلوں کے ذریعے انجام دیے گئے سائبر جرائم کے باہمی روابط کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande