
نئی دہلی، 6 اکتوبر (ہ س)۔ لارنس بشنوئی گینگ کا رکن بتا کر ایک سینئر ڈاکٹر سے 25 لاکھ روپے کی رنگداری مانگنے کے الزام میں دہلی پولیس نے ہمانشو جین (35) کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے وصولی کرنے کے لیے استعمال کیا گیا موبائل فون اور سم کارڈ کے علاوہ واردات میں استعمال کی گئی کار بھی برآمد کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق شکایت کنندہ ایکشن بالاجی اسپتال میں سینئر ڈاکٹر ہیں۔ 2 اکتوبر کو انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ذاتی موبائل نمبر پر دھمکی آمیز فون آیا تھا۔ فون کرنے والے نے خود کو لارنس بشنوئی گینگ کا رکن بتایا اور 25 لاکھ روپے کی رنگداری مانگی۔ دھمکی دینے والے نے ڈاکٹر کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کی ذاتی معلومات کا بھی ذکر کیا۔ شکایت ملنے کے بعد پچھم وہار ایسٹ تھانے میں ایف آئی آر نمبر 307/26 کے تحت بی این ایس کی دفعہ 308(4) میں مقدمہ درج کیا گیا۔
معاملے کی تفتیش کے لیے تھانہ پولیس اور اسپیشل اسٹاف کی مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس نے تکنیکی نگرانی اور مخبر کی اطلاع کی بنیاد پر ملزم کی تلاش شروع کی۔ جس موبائل نمبر سے ڈاکٹر کو فون کیا گیا تھا، اس کی لوکیشن اور دیگر تکنیکی معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ پولیس نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ ملزم کے رابطے میں رہیں اور فون پر ہونے والی گفتگو ریکارڈ کریں۔ 2 اکتوبر کو ملزم نے ڈاکٹر کو دوبارہ فون کیا اور جبری وصولی کی رقم لے کر روہنی میں جے پور گولڈن اسپتال کے قریب پہنچنے کے لیے کہا۔ پولیس نے اسی اطلاع کی بنیاد پر وہاں جال بچھایا۔ ملزم جب رقم لینے کے لیے مقررہ مقام پر پہنچا تو پولیس ٹیم نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کی شناخت ہمانشو جین (35)، ساکن پوٹھ گرام سبھا، دہلی کے طور پر ہوئی۔
پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ہمانشو جین پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف 2018 میں سبھاش پلیس تھانے میں جبری وصولی اور دھمکی سے متعلق مقدمہ درج ہے۔ اس کے علاوہ 2020 میں پریت وہار تھانے میں جبری وصولی، دھمکی، شواہد مٹانے اور مجرمانہ سازش سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق پوچھ گچھ میں ملزم نے بتایا کہ اس نے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈاکٹر سے رنگداری مانگنے کی واردات انجام دی۔ اس کی نشاندہی پر رنگداری مانگنےکے لیے استعمال کیا گیا موبائل فون اور سم کارڈ برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر واردات میں استعمال کی گئی کار بھی برآمد کرکے ضبط کر لی گئی ہے۔
پولیس اب ملزم کے اس دعوے کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ وہ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر کو دھمکی دینے کی سازش میں اس کے ساتھ کوئی اور شخص شامل تھا یا نہیں۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد