برسبین-2032 اولمپک اور پیرا اولمپک کا علامتی نشان آسٹریلیائی طوطا کاکاٹو ہوگا
برسبین، 5 اکتوبر (ہ س)۔ برسبین-2032 اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے لیے آسٹریلیائی پرندے کاکاٹو کو سرکاری علامتی نشان کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ کاکاٹو نے کینگرو، کوالا اور ’بن چکن‘ جیسے متبادلوں کو پیچھے چھوڑ کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔ تاہم، سرکاری
برسبین-2032 اولمپک اور پیرا اولمپک کا علامتی نشان آسٹریلوی طوطا کاکاٹو ہوگا


برسبین، 5 اکتوبر (ہ س)۔ برسبین-2032 اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے لیے آسٹریلیائی پرندے کاکاٹو کو سرکاری علامتی نشان کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ کاکاٹو نے کینگرو، کوالا اور ’بن چکن‘ جیسے متبادلوں کو پیچھے چھوڑ کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔ تاہم، سرکاری لانچ سے قبل علامتی نشان کے سوشل میڈیا پر غلطی سے لیک ہونے کے باعث منتظمین کو کچھ ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

منتظمین نے پیر کو باضابطہ طور پر علامتی نشان کی نقاب کشائی کی۔ اولمپک علامتی نشان میں گلابی کاکاٹو کی کلغی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے رنگ کو اولمپک اور پیرا اولمپک مشعل جیسا انداز دیا گیا ہے، جبکہ اس کی شکل میزبان ریاست کوئنز لینڈ سے متاثر ہے۔ کاکاٹو آسٹریلیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پایا جانے والا ایک خاص قسم کا بڑا طوطا ہے۔ یہ اپنی دلکش کلغی، شوخ رنگوں اور دوستانہ مزاج کے لیے جانا جاتا ہے۔ کاکاٹو کو آسٹریلیا کی نمایاں پرندوں کی نسلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

برسبین کے لارڈ میئر ایڈرین شرینر نے سرکاری بیان میں کہا کہ یہ علامتی نشان ہمارے شہر اور ہمارے طرز زندگی کا جشن ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ اس برسبین کی عکاسی کرتے ہیں، جسے لوگ جانتے اور پسند کرتے ہیں—زندہ دل، مضبوط، جڑا ہوا، دوستانہ، شرارتی اور قدرے شوخ۔ یہ ہمارے شہر میں بڑھتے جوش و خروش کی بھی علامت ہیں۔ کھیلوں کے آغاز میں چھ سال سے کچھ کم وقت باقی ہے اور ہم دنیا کو آسٹریلیا کے طرز زندگی کے دارالحکومت میں خوش آمدید کہنے کی تیاری پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔‘‘

منتظمین کے مطابق علامتی نشان میں فرسٹ نیشنز برادریوں سے وابستہ عناصر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کاکاٹو کو ایسے پیغام رساں کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں اور لوگوں کو مقام، کہانی اور روایات سے جوڑتے ہیں۔ تاہم، یہ علامتی نشان کھیلوں کے میسکاٹ سے مختلف ہیں، جس کی نقاب کشائی کھیلوں کے قریب آنے پر کی جائے گی۔

علامتی نشان کی نقاب کشائی مقررہ تقریب کے بعد نشر کی جانی تھی، لیکن اس کے لیے تیار کیا گیا ایک وضاحتی ویڈیو جمعہ کی رات غلطی سے کچھ وقت کے لیے منتظمین کے یوٹیوب چینل پر لائیو ہو گیا۔ اس کے بعد تصاویر اور متن کے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے لگے۔

برسبین 2032 کے نائب صدر ٹم مینڈر اور چیف مارکیٹنگ افسر برینٹ ہل نے ہفتے کے آخر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس غلطی کی وضاحت کی۔ ہل نے اس غیر متوقع صورتحال کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے کہا، ’’تشہیر ناقابل یقین رہی ہے۔‘‘

پیر کی شام شہر کے ساؤتھ بینک پارک لینڈز میں منعقدہ کمیونٹی لانچ سے قبل برسبین 2032 کے صدر اینڈریو لیوریس نے کہا کہ یہ علامتی نشان ’’کھیلوں کے منفرد کردار کو فروغ دینے کا موقع ہیں، جو دنیا کو اس کے بارے میں مزید جاننے، یہاں آنے، سرمایہ کاری کرنے اور کسی دوسرے سے مختلف انعقاد کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘

2032 کھیلوں کے لیے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے رابطہ کمیشن کی چیئرپرسن میکائیلا کوزوانگکو جاورسکی نے ان علامتی نشانات کو خطے کی فطرت اور کردار کا ’’زندہ اظہار‘‘ قرار دیا۔

2032 اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کا مرکزی مرکز ریاست کا دارالحکومت برسبین ہوگا، تاہم کوئنز لینڈ کے دیگر شہروں، جن میں گولڈ کوسٹ اور سن شائن کوسٹ شامل ہیں، میں بھی مختلف مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

آسٹریلیا اس سے قبل دو مرتبہ سمر اولمپک کھیلوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ میلبورن نے 1956 اور سڈنی نے 2000 میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی تھی۔

سڈنی اولمپک کے علامتی نشان میں شہر کی مشہور شناخت کو اجاگر کیا گیا تھا، جس میں سڈنی اوپیرا ہاؤس، مشہور بندرگاہ اور ساحلوں کے ساتھ بوم رینگ، سورج اور چٹانوں کی علامتیں شامل تھیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande