
نئی دہلی، 5 اکتوبر (ہ س)۔
ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے دو روز قبل آئیچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں کے فائنل میں ملائیشیا کو 5-1 سے شکست دے کر اپنے ایشیائی کھیلوں کے خطاب کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اس جیت کے ساتھ ہرمن پریت سنگھ کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم نے لاس اینجلس 2028 اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی بھی کر لیا۔
ہندوستانی مردوں کی قومی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ کریگ فلٹن نے سائی میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ لاس اینجلس اولمپکس اب زیادہ دور نہیں ہے اور ہاکی انڈیا لیگ کے بعد انہیں ایک نئی ٹیم تیار کرنے پر کام کرنا ہوگا۔ اس دوران ٹیم میں زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرکے تجربے اور نوجوان جوش کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے پر زور دیا جائے گا۔
فلٹن نے کہا، ”لاس اینجلس 2028 اب دو سال سے بھی کم دور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ابھی کافی وقت ہے، لیکن یہ وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ فی الحال ہم درست پروگرام اور مناسب منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اولمپکس سے دو سال پہلے، ایک سال پہلے اور چھ ماہ پہلے ہماری تیاری کیسی ہونی چاہیے اور اسی کے مطابق منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔“
انہوں نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ ہر ٹیم میں تجربہ اور نوجوان کھلاڑیوں کے اپنے اپنے مراحل ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس تجربہ کار کھلاڑیوں کا ایک اچھا گروپ ہے۔ ہمارے پاس کچھ نوجوان کھلاڑی بھی ہیں، جبکہ انڈیا اے اور مضبوط انڈر-21 ٹیم میں نوجوان صلاحیتوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جو ایک اچھی بات ہے۔ اس لیے اگلے دو، تین ماہ میں، میرے خیال میں ہاکی انڈیا لیگ کے بعد ہم اپنی پوری صلاحیتوں کا جائزہ لیں گے، نئی ٹیم کا انتخاب کریں گے اور وہیں سے نئے سرے سے شروعات کریں گے۔“
یہ ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم کا ایشیائی کھیلوں میں مجموعی طور پر پانچواں طلائی تمغہ ہے۔ اس سے پہلے ٹیم نے 1966 بینکاک، 1998 بینکاک، 2014 انچیون اور 2022 ہانگژو ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
1996 اور 2004 کے سمر اولمپکس میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والے فلٹن نے مسلسل دو ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کو ایک خصوصی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”ذاتی طور پر میرے لیے یہ ایشیائی کھیل بہت منفرد رہے۔ یہ گزشتہ ایشیائی کھیلوں سے بہت مختلف تھے، کیونکہ یہاں ہم دیگر کھیلوں اور کھلاڑیوں سے ایک طرح سے الگ تھے۔ یہاں روایتی معنوں میں کوئی اسپورٹس ولیج نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود ہماری اپنی روٹین تھی۔ ہم میدان میں جاتے، کھیلتے، واپس آتے اور سب کچھ اسی طرح چلتا رہتا تھا۔ لیکن ہانگژو میں پہلا طلائی تمغہ جیتنا بہت خاص تھا۔ مسلسل دوسری مرتبہ طلائی تمغہ جیت کر اپنے خطاب کا دفاع کرنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔“
ہندوستان نے گیفو پریفیکچرل گرین اسٹیڈیم میں روایتی حریف پاکستان کو میچ کے آخری لمحات میں 4-3 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ ہندوستان ایک وقت 3-0 سے آگے تھا، لیکن پاکستان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے اسکور برابر کر دیا تھا۔ ہرمن پریت سنگھ نے پانچویں اور 13ویں منٹ میں جبکہ سکھجیت سنگھ نے 23ویں منٹ میں گول کرکے ہندوستان کو 3-0 کی برتری دلائی۔ اس کے بعد ابو محمود نے 30ویں، حنان شاہد نے 45ویں اور وحید رانا نے 49ویں منٹ میں گول کرکے پاکستان کو برابری پر پہنچا دیا۔ ابھیشیک نے میچ کے آخری منٹ میں گول کرکے ہندوستان کو فائنل میں پہنچا دیا۔
پاکستان کے خلاف مقابلے کے بارے میں فلٹن نے کہا، ”سب کچھ ہمارے منصوبے کے مطابق ہی ہوا۔ ہمارا پہلا ہاف واقعی بہت اچھا رہا، لیکن تیسرا کوارٹر مشکل تھا۔ پاکستان ایسی ٹیم ہے کہ اگر آپ اسے کوئی بھی مفت موقع دیتے ہیں تو وہ اسے ضرور بھناتی ہے اور وہ ایک شاندار ٹیم ہے۔ انہوں نے یہ ثابت بھی کیا۔ انہوں نے اچھی واپسی کی اور 3-0 سے 3-3 تک پہنچ کر ہم پر کافی دباو¿ بنایا۔ اس دوران ہمارے پاس بھی کچھ اچھے مواقع تھے، لیکن ہم انہیں گول میں تبدیل نہیں کر سکے۔ پھر ہم نے آخری منٹ میں گول کرنے کا راستہ نکالا اور چوتھا گول کیا، جس نے ہمیں فائنل میں پہنچنے میں مدد دی۔“
آئیچی-ناگویا میں ہندوستانی مرد اور خواتین دونوں ہاکی ٹیموں کا طلائی تمغہ جیتنا ایشیائی کھیلوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ کبڈی اور کرکٹ کے بعد آئیچی-ناگویا میں یہ ہندوستان کا تیسرا ٹیم ایونٹ تھا، جس میں مردوں اور خواتین دونوں ٹیموں نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔
اس کامیابی میں ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی کی جانب سے مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کو فراہم کی گئی 77.8 کروڑ روپے کی مالی معاونت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس میں قومی کوچنگ کیمپ، بین الاقوامی مقابلوں میں تجربہ، غیر ملکی کوچ کی فیس اور کھیلوں کے سامان سے متعلق تعاون شامل ہے۔
فلٹن نے ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی اور حکومت کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ”میرا خیال ہے کہ حکومت وسائل اور مالی مدد کے معاملے میں ہماری سب سے بڑی حامی ہے۔ وہ زمینی سطح کے پروگراموں سے لے کر 18 سال، 21 سال اور سینئر سطح تک مدد فراہم کرتی ہے۔ اگر وہ اتنی حمایت اور وسائل فراہم نہ کرتی تو مجھے نہیں معلوم کیا ہوتا۔ اسی حمایت کی وجہ سے لڑکیاں 44 سال میں پہلی مرتبہ پوڈیم پر کھڑی ہوکر طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئیں اور ہم مسلسل دوسری مرتبہ طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ ہاں، یہ ایشیا میں ہمارا غلبہ ہے۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ