
پلامو، 3 اکتوبر (ہ س)۔ پلامو ضلع کے معروف پربھات مہتا قتل معاملے کی تحقیقات کے لیے پولیس سپرنٹنڈنٹ کپل چودھری نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ حسین آباد کے سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) اور آئی پی ایس افسر دیویانش شکلا کی قیادت میں ایس آئی ٹی پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ وہیں مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے شبہ ظاہر کیے جانے کے بعد چار پولیس اہلکاروں کو لائن حاضر کردیا گیا ہے۔
پربھات مہتا 23 مئی کو پٹن تھانہ علاقے کے سہدیوا سے لاپتہ ہوئے تھے۔ 27 مئی کو ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ معاملے میں پولیس نے مرکزی ملزم راہل کمار چندروَنشی کو بنگلورو سے گرفتار کیا تھا۔ راہل کو مقتول کا قریبی دوست بتایا جاتا ہے۔ دوسرے ملزم دھرمیندر کمار کو ہریانہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں قتل کے پیچھے پرانا تنازع سامنے آیا تھا۔
معاملے کی تحقیقات کو لے کر پربھات مہتا کے اہل خانہ نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے تھے۔ مرکزی ملزم کی اہلیہ نے بھی پربھات مہتا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ پربھات مہتا اس کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کرتے تھے اور ان کی نیت درست نہیں تھی۔ اسی معاملے کو لے کر باہمی دشمنی کی بات سامنے آئی تھی۔
پولیس اب قتل سے جڑے تمام پہلوؤں کو جوڑنے میں مصروف ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے جن لوگوں پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے، ان کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) اور لوکیشن کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہر پہلو کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
میدینی نگر صدر کے ایس ڈی پی او راجیش یادو نے ہفتہ کو بتایا کہ اب تک کی تحقیقات میں ملنے والے شواہد کی بنیاد پر قتل میں دو افراد کا کردار سامنے آیا ہے۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اب تک کسی دوسرے شخص کا کردار سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی درخواست کے بعد ایس پی کے حکم پر تحقیقات شروع کی گئی اور حسین آباد ایس ڈی پی او دیویانش شکلا کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جن پولیس افسران اور اہلکاروں پر الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے سی ڈی آر اور کال ڈیٹیل کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس دستیاب تمام شواہد کی بنیاد پر معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد