
۔چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ نے کہا- ہندوستانی فضائیہ نے الگ ڈرون فورس بنانے کے بارے میں نہیں سوچا
نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی لڑاکا طیارے ایف-35 اور روسی سکھوئی-57 خریدنے کے لیے حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی طرح کی منظوری یا اشارہ نہیں دیا گیا ہے، اس لیے ہندوستانی فضائیہ نے بھی ان دونوں طیاروں کی جنگی صلاحیتوں کا جائزہ بھی نہیں لیا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے لیے ڈرون کوئی انقلابی تبدیلی نہیں بلکہ ترقی کے عمل کا حصہ ہیں۔ ہم ڈرون اور لوئٹرنگ میونیشن کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کسی الگ ڈرون فورس کی ضرورت ہے۔ انہیں موجودہ نظام کا ہی حصہ ہونا چاہیے اور ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہ کہنا ہے ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ کا۔ ہفتہ کو سالانہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مو¿ثر نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈرون کو دیگر ہتھیاروں کے ساتھ ہی استعمال کرنا ہوگا۔ ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ ایک قسم کا ہتھیار کہیں الگ استعمال کریں اور دوسرے قسم کا ہتھیار کسی اور جگہ۔ اسی لیے ہم نے الگ ڈرون فورس بنانے کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔
نیٹ-یوجی کے دوبارہ امتحان کے سوالیہ پرچوں کو مقررہ مقامات تک پہنچانے کی ذمہ داری فضائیہ کو دیے جانے کے بارے میں ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ اگر ہم کسی عمل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ہمیں مدد کرنی چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کام کیا ہے۔
گزشتہ ایرو انڈیا میں سکھوئی-57 اور امریکی لڑاکا طیارے ایف-35 کی نمائش دیکھنے کے بعد اب امریکہ نے جو دھپور میں جاری کثیر ملکی مشق ’ترنگ شکتی‘ میں ایف-35 بھیجا ہے۔ دونوں طیارے بنانے والے ممالک سے انہیں خریدنے کی پیشکش کے بارے میں پوچھے جانے پر چیف ایئر مارشل نے کہا کہ ابھی تک دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کوئی باضابطہ پیشکش نہیں موصول ہوئی ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کی طرف سے بھی کسی طرح کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فضائیہ نے دونوں طیاروں کی جنگی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی ٹیم بھیجی جائے گی۔
فلائی دبئی کے کپتان اسمت مچھار کے بارے میں فضائیہ کے سربراہ چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو ان پر فخر ہے۔ انہوں نے جو کچھ کیا، وہ غیر معمولی بہادری کا کام تھا۔ انہوں نے زبردست جسمانی اور ذہنی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے۔
ایل سی اے مارک-1 اے کی تیاری میں تاخیر کے لیے کیا ایچ اے ایل پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، اس سوال پر انہوں نے کہا کہ آرڈر دیتے وقت کیے گئے معاہدے میں اس طرح کی شق موجود ہوتی ہے، لیکن اس بار تاخیر بہت زیادہ ہوئی ہے۔ ہم مارک-2 پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے ایم سی اے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کے پروگرام میں تاخیر ہوتی ہے تو ہمیں دیگر متبادل پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہم اپنے بیڑے میں طیاروں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔
اسی ماہ 31 اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے فضائیہ کے سربراہ سے ان کے دور کار کی سب سے بڑی کامیابی اور چیلنج کے بارے میں پوچھا گیا تو چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ کوئی بھی شخص کبھی بھی کسی ادارے سے بڑا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، ”یہ میرا دور کار کہیں یا گزشتہ دو سال کہیں، اس دوران جو بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ میری وجہ سے نہیں بلکہ پورے ادارے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ سب نے جو کام کیا اور اچھا کیا، اسی کی وجہ سے یہ کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ اگر کہیں ہم توقعات پر پورا نہیں اترے یا کسی کو ایسا لگتا ہے تو اس کی ذمہ داری لینے کے لیے میں تیار ہوں۔“
پریس کانفرنس سے قبل اسکواڈرن لیڈر پلوّی سانگوان نے ملک کے 94ویں یومِ فضائیہ کے موقع پر ہونے والے پروگراموں کی معلومات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں کی جامد نمائش ہوگی، جبکہ ’ٹیم شکتی‘ ایئر واریئر ڈرل ٹیم اپنی کارکردگی پیش کرے گی۔ اس کے بعد ہندوستانی فضائیہ کی ڈرمرز ٹیم کی پرفارمنس اور ہیریٹیج فلائٹ کا فضائی مظاہرہ ہوگا۔ اس سال یومِ فضائیہ کا موضوع ’ہندوستانی فضائیہ—اچوک، ناقابل تسخیر اور درست‘ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی پروگرام 8 اکتوبر کو ایئرفورس اسٹیشن ہنڈن میں منعقد ہوگا۔ پریڈ کا معائنہ چیف آف دی ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کریں گے۔ چیف آف دی آرمی اسٹاف، چیف آف دی نیول اسٹاف اور فضائیہ کے سابق سربراہ بھی پریڈ میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پریڈ سے قبل ایم آئی-17-1 وی ہیلی کاپٹروں کا پرچم بردار فلائی پاسٹ ہوگا۔ تین ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر قومی پرچم اور ہندوستانی فضائیہ کا پرچم لے کر پرواز کریں گے۔ پریڈ کے بعد انویسٹیچر تقریب منعقد ہوگی اور یونٹس کو بہترین کارکردگی کے لیے تعریفی اسناد دی جائیں گی۔
لڑاکا طیاروں، ٹرانسپورٹ طیاروں، ہیلی کاپٹروں، زمین سے فضا اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے گائیڈڈ ہتھیاروں کے نظام، ریڈار اور یک طرفہ حملہ کرنے والے بغیر پائلٹ فضائی نظام کی جامد نمائش بھی کی جائے گی۔ یہ پلیٹ فارم ’میک ان انڈیا‘ کو فروغ دینے پر ہندوستانی فضائیہ کی مسلسل توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسکواڈرن لیڈر نے کہا کہ ’ٹیم شکتی‘ ہندوستانی فضائیہ کی اہم آل ویمن ایئر واریئر ڈرل ٹیم ہے۔ یہ اپنی درستگی، پھرتی اور نظم و ضبط کے لیے جانی جاتی ہے۔ ٹیم باہمی تال میل کے ساتھ حرکات اور پیچیدہ فارمیشنز پیش کرتی ہے۔ وہ خواتین کو بااختیار بنانے اور پیشہ ورانہ مہارت کی مضبوط نمائندہ کے طور پر کام کرتی ہے اور مختلف پروگراموں میں ہندوستانی فضائیہ کی نمائندگی کرتی ہے۔یومِ فضائیہ کا فضائی مظاہرہ 25 اکتوبر کو وارانسی کے نمو گھاٹ پر منعقد کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد