
غازی آباد، 3 اکتوبر (ہ س):۔
اتر پردیش کے غازی آباد ضلع کی ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت نے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے صدر اور اتر پردیش کی نگینہ لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد کے خلاف ایک بار پھر غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ 2018 میں ایک نوجوان کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور گالی گلوج سے متعلق ہے۔
غازی آباد عدالت کے وکیل بھجن لال گوتم نے ہفتہ کو بتایا کہ متاثرہ دھرمندر کمار غازی آباد کے مسوری تھانہ علاقے کے نورپور گاو¿ں کے رہنے والے ہیں۔ دھرمندر کا الزام ہے کہ 2018 میں وہ صاحب آباد علاقے کے وِرنداون گارڈن میں ایک شادی کی تقریب میں گئے تھے۔ اسی دوران چندرشیکھر بھی اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔ دھرمندر نے چندرشیکھر سے پوچھا کہ وہ اتنے ہتھیار لے کر کیوں آئے ہیں۔ اس پر چندرشیکھر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’نظر نہیں آ رہا، رائفلیں ہیں۔‘
دھرمندر کے مطابق، اس کے بعد چندرشیکھر اور ان کے ساتھی گلزار صدیقی، پنکج جاٹو سمیت تقریباً 15 نامعلوم افراد نے ان کے ساتھ گالی گلوج اور مارپیٹ کی۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ اس معاملے میں دھرمندر نے عدالت کے سامنے شکایت درج کرائی تھی۔ اسی معاملے میں ایم پی-ایم ایل اے عدالت، غازی آباد نے اس سے قبل بھی رکن پارلیمنٹ کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا، لیکن چندرشیکھر سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
سماعت سے مسلسل غیر حاضر رہنے پر عدالت نے ان کے خلاف ایک بار پھر غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ وکیل نے بتایا کہ چندرشیکھر آزاد مسلسل عدالتی کارروائی سے غیر حاضر رہے ہیں اور اس بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد عدالت نے ان کے خلاف دوبارہ غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 23 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ