اقتصادی مضبوطی پیدا کرنا ایک مسلسل عمل ہے، ایک بار کی مشق نہیں: سیتارمن
۔وزیر خزانہ نے کہا- عالمی غیر یقینی صورتحال اب ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، ہمیں مضبوطی برقرار رکھنا ہوگی نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہفتہ کو کہا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے پ
Global-uncertainty-condition-building-resilience-S


Global-uncertainty-condition-building-resilience-S


۔وزیر خزانہ نے کہا- عالمی غیر یقینی صورتحال اب ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، ہمیں مضبوطی برقرار رکھنا ہوگی

نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہفتہ کو کہا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے پالیسیاں بھی اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی اقتصادی مضبوطی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سیتارمن نے نئی دہلی میں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ نجی شعبہ سرمایہ کاری کی قیادت کرے، جس میں تحقیق و ترقی ( آر اینڈ ڈی ) بھی شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا، ”غیر یقینی صورتحال اب عالمی معیشت کی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے اور پالیسیاں اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جانی چاہئیں۔ ہمیں آگے بڑھتے ہوئے مضبوطی برقرار رکھنی ہوگی، یہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں ہے۔ آنے والے برسوں کے لیے تیاری ضروری ہے اور ہندوستان ان چیلنجز کا مضبوطی کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔“

وزیر خزانہ سیتارمن نے کہا کہ عالمی سرکاری قرض 2025 میں بڑھ کر جی ڈی پی کے تقریباً 94 فیصد تک پہنچ گیا اور 2029 تک اس کے 100 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یہ سطح دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں آخری بار دیکھی گئی تھی۔

سیتارمن نے ”تبدیلی کے دور میں مضبوطی“ کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی قیادت ’اصلاح پسند سوچ‘ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اصلاحات کو مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ پختہ یقین کے ساتھ اپناتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی، انسالونسی اینڈ بینک رپسی کوڈ، چار لیبر کوڈز اور جن وشواس ایکٹ کے ذریعے قومی سطح پر اصلاحات کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کا مقصد ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیوں کو آسان، زیادہ قابل پیش گوئی اور زیادہ پیداواری بنانا رہا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande