
اے ایم یو میں جمہوری نظام کی بحالی کا استاذہ نے کیا مطالبہ، انتخابات نہ ہوئے تو سڑکوں پر اترنے کا اعلان
علی گڑھ، 03 اکتوبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اساتذہ کے منتخب نمائندوں، طلبہ یونین اور غیر تدریسی ملازمین کی یونین و ایسوسی ایشن کے انتخابات کے مطالبے کو لے کر اب اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن (اے ایم یو ٹی اے) نے بھی اپنی آواز بلند کردی ہے۔ آج اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایسوسی ایشن کے سکریٹری ڈاکٹر اشرف متین جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی کی مختلف قانونی اداروں میں طویل عرصے سے اساتذہ کی منتخب نمائندگی ختم ہے اور اب یونیورسٹی میں جمہوری نظام کی بحالی ناگزیر ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر اشرف متین اور ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ایک عرصے سے اکیڈمک کونسل اور اے ایم یو کورٹ میں اساتذہ کی منتخب نمائندگی موجود نہیں ہے، جبکہ گزشتہ تقریباً چار ماہ سے ایگزیکٹو کونسل میں بھی اساتذہ کا کوئی منتخب نمائندہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے یہ تمام قانونی ادارے ہیں اور ان میں اساتذہ کی منتخب نمائندگی ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی میں غیر تدریسی ملازمین کی کوئی فعال یونین بھی موجود نہیں ہے، جبکہ طلبہ یونین کے انتخابات بھی طویل عرصے سے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ بھی موجود ہے جہاں جمہوری سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر اشرف متین نے کہا کہ اے ایم یو میں جمہوری نظام کی بحالی کے لیے مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ اساتذہ کے نمائندوں کے انتخابات کرائے جائیں، غیر تدریسی ملازمین کی یونین اور ایسوسی ایشن کے انتخابات ہوں اور طلبہ یونین کے انتخابات بھی کرائے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ 28 ستمبر کو اساتذہ کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی، جس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اساتذہ کا ایک وفد وائس چانسلر سے ملاقات کرے گا، جس میں ممکنہ امیدواروں اور سابق منتخب ارکان کو شامل کیا جائے گا۔
ڈاکٹر اشرف متین نے بتایا کہ وائس چانسلر سے ملاقات کے لیے وقت مانگا گیا تھا اور 3 اکتوبر تک ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ ہفتہ کو انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کے سلسلے میں ایک خط موصول ہوا، جس میں اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کو شام پانچ بجے بلایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ نے پہلے ہی اپنا نمائندہ وفد طے کرلیا تھا، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کو نہیں بلایا گیا۔ اسی وجہ سے طے شدہ وفد ملاقات میں شرکت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کے لیے بلایا جانا ایک مثبت قدم ہے، لیکن وفد میں کون کون سے اساتذہ شامل ہوں گے، یہ فیصلہ اساتذہ پر چھوڑا جانا چاہیے تھا۔
انتخابات نہ کرائے جانے کی صورت میں آئندہ کے لائحۂ عمل پرانہوں نے واضح کیا کہ اس کے بعد اساتذہ سڑکوں پر اترنے کے ساتھ ساتھ شعبہ بہ شعبہ اپنے ساتھی اساتذہ سے رابطہ کریں گے اور انہیں بھی اس تحریک میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کریں گے۔ اس کے بعد احتجاج کے دیگر مراحل کا فیصلہ کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اساتذہ کسی نئی سہولت یا نئے قانون کا مطالبہ نہیں کررہے، بلکہ ان حقوق اور نمائندگی کا مطالبہ کررہے ہیں جو یونیورسٹی کے ایکٹ اور اسٹیچیوٹس میں پہلے سے درج ہیں اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون میں اساتذہ کی نمائندگی، طلبہ کے نمائندوں، طلبہ یونین اور غیر تدریسی ملازمین کی نمائندگی کا ذکر موجود ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر موجود نہیں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کا ایکٹ اور اسٹیچیوٹس کس طرح نافذ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی ایکٹ اور اسٹیچیوٹس کے مطابق چل رہی ہوتی تو یونیورسٹی کی تمام قانونی اداروں میں مقررہ نمائندگی موجود ہوتی۔ پریس کانفرنس میں
ڈاکٹر مراد نے کہا کہ یونیورسٹی کے قانونی اداروں میں اساتذہ، طلبہ اور غیر تدریسی ملازمین کی آواز اور نمائندگی ہونا ضروری ہے۔ اگر جمہوریت پر یقین ہے تو یونیورسٹی میں بھی تمام جمہوری اداروں کے انتخابات ہونے چاہئیں۔وائس چانسلر کے جمہوریت پر یقین کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس پر براہ راست تبصرہ کرنا مشکل ہے، لیکن جو شخص جمہوریت پر یقین رکھتا ہے اسے جمہوری اداروں پر بھی اعتماد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ہوتے ہیں اور دیگر یونیورسٹیوں میں بھی انتخابات کرائے جاتے ہیں، اسی طرح اے ایم یو میں بھی تمام جمہوری اداروں کے انتخابات کراکر ہر طبقے کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر مصور نے موجودہ وقت میں یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ جو ذمہ داران ہیں وہ اے ایم یو کے دستور پر عمل پیرا نہیں ہیں اور اسکی یہی مثال ہے کہ جو یونیورسٹی کی اہم باڈی ہیں اسکے انتخابات نہیں کرائے جارہے ہیں جبکہ یونیرسٹی کے دستور کے مطابق ان باڈی کا متحرک ہونا بہت ضروری ہے اور اس میں ان سبھی طبقوں کی نمائندگی ہو۔
پریس کانفرنس میں اے ایم یو ٹی اے کے عہدیداران کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ بھی موجود رہے جس میں پروفیسر معین الدین،ڈاکٹر اشاعت محمد خاں،ڈاکٹر ارشد باری،ڈاکٹر مزمل مشتاق،ڈاکٹر سعد بن جاوید، ڈاکٹرعاصم خان،ڈاکٹر سدھارت چکربتی،ڈاکٹر محمد سہیل،ڈاکٹر ارشد ایچ خان اور ڈاکٹر شمشاد کے نام شامل ہیں جنھوں نے اساتذہ کی منتخب نمائندگی، طلبہ یونین انتخابات اور غیر تدریسی ملازمین کی یونین و ایسوسی ایشن کے انتخابات بحال کرنے کا مطالبہ زور دار انداز میں اٹھایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ