کنہیا لال قتل کیس کے پانچ ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد
جے پور، 3 اکتوبر (ہ س):۔ راجستھان ہائی کورٹ نے ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس سے وابستہ پانچ ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ چیف جسٹس سنجے کے اگروال اور جسٹس سمیر جین کی ڈویژن بنچ نے ملزم وسیم علی،
کنہیا لال قتل کیس کے پانچ ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد


جے پور، 3 اکتوبر (ہ س):۔

راجستھان ہائی کورٹ نے ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس سے وابستہ پانچ ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ چیف جسٹس سنجے کے اگروال اور جسٹس سمیر جین کی ڈویژن بنچ نے ملزم وسیم علی، مسلم خان، محسن خان، محمد محسن اور عارف حسین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دن دہاڑے متاثرہ شخص کی دکان میں داخل ہوکر بے رحمی سے قتل کرنا اور فرقہ وارانہ بدامنی و دہشت پھیلانے کے مقصد سے اس گھناو¿نے فعل کی ویڈیو بناکر اسے پھیلانا ریاست کی بنیاد پر حملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی منظم دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے مجرمانہ سازش کا معاشرے پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ معاملے کے حالات اور جاری ٹرائل کو دیکھتے ہوئے صرف طویل عرصے سے حراست میں رہنے کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے میں کیے گئے تبصرے صرف ضمانت کی درخواستوں کی سماعت تک محدود ہیں اور انہیں مقدمے میں موجود شواہد کے حتمی جائزے کے طور پر نہیں سمجھا جائے گا۔

ضمانت کی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ واقعے سے قبل کنہیا لال کی دکان کے آس پاس ملزموںکی موجودگی ثابت کرنے والا کوئی براہ راست ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ وہ تقریباً چار سال سے جیل میں بند ہیں اور ابھی بھی مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں طویل وقت لگنے کا امکان ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 28 جون 2022 کو درزی کنہیا لال اپنی دکان پر کام کر رہے تھے۔ اسی دوران ان کا بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی تھی۔ معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے این آئی اے نے ریاض عطاری اور غوث محمد سمیت دیگر ملزموںکے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس معاملے میں فرہاد محمد اور محمد جاوید کو ضمانت مل چکی ہے، جبکہ پاکستان کا رہنے والا سلمان اور ابو ابراہیم فرار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande