
ممبئی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستانی آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کی زندگی کی کہانی اب ایک نئے انداز میں پردہ سیمیں پر پیش کی جانے والی ہے۔ مائیکرو ڈرامہ پلیٹ فارم کوکو ٹی وی نے ان کی زندگی پر مبنی تاریخی سیریز ’بابا صاحب‘ پیش کی ہے۔
یہ مائیکرو ڈرامہ ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی کے اس دور پر مرکوز ہے، جب کم عمر بھیم راو¿ ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک، سماجی نابرابری اور معاشی مشکلات کے درمیان تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ قومی رہنما اور آئین ساز کی حیثیت سے شناخت قائم کرنے سے پہلے ان کی زندگی میں پیش آنے والے تجربات کو اس سیریز میں نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی خودنوشت تصنیف ’ویٹنگ فار اے ویزا‘ سے متاثر یہ سیریز تاریخی واقعات کی بنیاد پر ان کی جدوجہد اور ان کے خیالات کی تشکیل و ارتقا کو سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے۔
’بابا صاحب‘ میں تعلیم کو تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ سماجی بندشوں اور معاشی چیلنجوں کے باوجود بھیم راو¿ کا علم حاصل کرنے کا عزم انہیں آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔ سال 1913 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ روانہ ہونا ،ان کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھا، جسے اس کہانی میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ سیریز میں ان کی زندگی کے مختلف ادوار کے کردار پانچ فنکاروں نے ادا کیے ہیں۔ قومی ایوارڈ یافتہ فلم ساز جینت سوملکر بھی اس پیشکش کا حصہ ہیں۔
فلم ’کورٹ‘ سے شناخت حاصل کرنے والے شیریش پوار نے رام جی سکپال، جب کہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ کی سابق طالبہ اسنیہ لتا تاگڑے نے جیجائی سکپال کا کردار ادا کیا ہے۔ تجربہ کار اداکار راجیش بھوسلے ماہر تعلیم کرشن جی کیشو کیلوسکر کے کردار میں نظر آئیں گے۔ سیریز کے تخلیقی پروڈیوسر سچت پورانک بھی اس میں مہمان اداکار کے طور پر دکھائی دیں گے۔ فنکاروں نے کبیر کے دوہوں اور ایک لوک گیت کو اپنی آواز بھی دی ہے۔
اس مائیکرو ڈرامے کی خاص بات اس کی پیشکش کی جدید طرزہے۔ اس میں حقیقی فنکاروں کی اداکاری کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ ماحول اور مناظر بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ اس دور کے حالات کو پردے پر حقیقت سے قریب تر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود کہانی میں انسانی جدوجہد اور فنکاروں کی اداکاری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد