شہید باجی راؤت اور تحریکِ آزادی کے گمنام ہیروز کو خراجِ عقیدت، اے ایم یو کا قومی یوتھ کانفرنس اختتام پذیر
علی گڑھ, 02 اکتوبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے زیر اہتمام تین روزہ قومی یوتھ کانفرنس 2026ء ’’گمنام ہیروز کی یاد‘‘ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں طلبہ نے ہندوستان کے کم معروف مجاہدینِ آزادی، ثقافتی یادوں اور قوم کی ت
کلچرل ایجوکیشن


علی گڑھ, 02 اکتوبر (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے زیر اہتمام تین روزہ قومی یوتھ کانفرنس 2026ء ’’گمنام ہیروز کی یاد‘‘ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں طلبہ نے ہندوستان کے کم معروف مجاہدینِ آزادی، ثقافتی یادوں اور قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ اور اوڈیشہ ریسرچ سینٹر کے تعاون سے منعقدہ اس کانفرنس کا موضوع ’’ہندوستانی تاریخ کی نوآبادیاتی اثرات سے آزادی اور قوم کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کو تحریک دینا‘‘ تھا۔ کانفرنس کی تحریک اوڈیشہ کے 12 سالہ کشتی بان شہید باجی راؤت کی جدوجہد اور قربانی سے لی گئی، جن کی بہادری اور شہادت کو تحریکِ آزادی میں بچوں اور نوجوانوں سمیت عام شہریوں کی قربانیوں کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

کانفرنس کا مقصد تحریکِ آزادی کی تاریخ کو روایتی بیانیوں سے آگے بڑھاتے ہوئے طلبہ کو ان متعدد آوازوں، تجربات اور مزاحمت کی مختلف شکلوں سے روشناس کرانا تھا، جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ادبی، فنونِ لطیفہ، ڈرامائی اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو تاریخ کو محض ایک مطالعاتی موضوع کے بجائے شہری اقدار، سماجی ذمہ داری اور قومی شعور کے ایک زندہ ذریعہ کے طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

کانفرنس کا آغاز مباحثہ و ادبی کلب کی جانب سے منعقدہ مضمون نویسی مقابلے سے ہوا۔ طلبہ نے قومی تحریک کے فراموش شدہ ابواب اور کم معروف مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس کے بعد کوئز مقابلے کا ابتدائی مرحلہ منعقد ہوا، جبکہ شام کے وقت ڈرامہ کلب کی جانب سے پیش کیے گئے نکڑ ناٹکوں کے ذریعے تاریخی موضوعات کو یونیورسٹی کے عوامی مقامات تک پہنچایا گیا۔

کانفرنس کے اہم علمی پروگراموں میں ’’ہندوستانی تاریخ کی نوآبادیاتی اثرات سے آزادی‘‘ کے موضوع پر ایک مذاکرہ منعقد ہوا، جس کی نظامت شعبۂ ہندی کے پروفیسر شنبھوناتھ تیواری نے کی۔ مذاکرے میں اس بات پر غور کیا گیا کہ نوآبادیاتی نقطۂ نظر نے ہندوستانی تاریخ کی تحریر اور تشریح کو کس طرح متاثر کیا اور تاریخ کی جامع تفہیم کے لیے مختلف ذرائع اور آوازوں کو شامل کرنا کیوں ضروری ہے۔

مذاکرے میں شعبۂ سیاسیات کی پروفیسر ارشی خان اور پروفیسر محیب الحق، شعبۂ تاریخ کے پروفیسر ایم۔ وسیم راجا، پروفیسر پرویز نذیر، پروفیسر سید علی کاظم اور پروفیسر مانویندر کمار پنڈیر کے علاوہ شعبۂ انگریزی کی پروفیسر وبھا شرما نے شرکت کی۔

پروفیسر شنبھوناتھ تیواری نے نوجوانوں کو تجسس، تنقیدی فکر اور ہندوستان کے متنوع تجربات کی سمجھ کے ساتھ تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ مذاکرے میں آرکائیوز، زبانی تاریخ، علاقائی روایات اور دیگر ذرائع کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

مرکزی پروگرام کینیڈی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد اور فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کی ڈین پروفیسر سیدہ آمنہ ناز بھی موجود تھیں۔ پروگرام کا آغاز کوئز مقابلے کے آخری مرحلے اور طلبہ کی تقاریر سے ہوا۔

شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد رضوان خان نے کہا کہ مرکز کا مقصد ایسے بامعنی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ ثقافتی تعلیم کو موجودہ شہری ذمہ داریوں اور ملک کی ترقی سے جوڑ سکیں۔ انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کے کم معروف ابواب کو نوجوانوں تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ تحریکِ آزادی سے وابستہ بہادری، قربانی، عزم اور سماجی ذمہ داری کی اقدار آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہم رہیں۔

کوئز مقابلے کے آخری مرحلے اور نکڑ ناٹک کی آخری پیشکش نے ناظرین میں خاصا جوش پیدا کیا۔ ثقافتی پروگرام میں ہندستانی موسیقی کلب، لوک و روایتی موسیقی کلب، مغربی موسیقی کلب اور فیوژن میوزک کلب کے طلبہ نے حب الوطنی سے سرشار مختلف پیشکشیں پیش کیں۔

اختتامی تقریب میں فائن آرٹس کلب کے رکن حارث رضا اشرف نے شرکاء کے سامنے شہید باجی راؤت کی لائیو پینٹنگ بنانا شروع کی۔ برش کے ساتھ نوجوان شہید کی تصویر آہستہ آہستہ کینوس پر ابھرتی گئی، جبکہ فیوژن میوزک کلب اور دیگر میوزک کلبوں کے اراکین نے حب الوطنی کے نغمے پیش کیے۔ فن، تاریخ اور موسیقی کے اس حسین امتزاج نے آڈیٹوریم میں جذباتی ماحول پیدا کردیا اور یہ قومی یوتھ کانفرنس کی خاص توجہ کا مرکز رہا۔

اختتامی تقریب میں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا گیا۔ کوئز مقابلے میں دیوان اشرف خان، سہیل اور فرحان علی کی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ شہزار حسین، سارم راشد اور احسان فرحان کی ٹیم رنر اپ رہی۔ مضمون نویسی مقابلے میں سارم راشد نے پہلی، محمد حمید نے دوسری اور شاکب خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تقریری مقابلے میں ابو داؤد، ذوالکف خیروآلا اور شرف اللہ خان فاتح قرار پائے۔

پروگرام کی نظامت مباحثہ و ادبی کلب کے سرپرست گفران احمد اور فیوژن میوزک کلب کے صدر ڈاکٹر انور احمد نے کی، جبکہ ہندستانی موسیقی کلب کے صدر پروفیسر پرویز طالب نے اظہارِ تشکر کیا۔

پروگرام میں شعبۂ انگریزی کی پروفیسر وبھا شرما، یونیورسٹی ڈرامہ کلب کی سرپرست، سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول بوائز کے گفران احمد، یونیورسٹی مباحثہ و ادبی کلب کے سرپرست، بوائز پولی ٹیکنک کے شعبۂ اپلائیڈ سائنسز و ہیومینٹیز کے ڈاکٹر محمد مجاہد علی خان، یونیورسٹی فیوژن میوزک کلب کے سرپرست، شعبۂ بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر پرویز طالب، یونیورسٹی ہندستانی موسیقی کلب کے صدر، ویمنس کالج کے شعبۂ جغرافیہ کے ڈاکٹر منصور عالم صدیقی، یونیورسٹی مباحثہ و ادبی کلب کے صدر، ویمنس کالج کے شعبۂ فائن آرٹس کے ڈاکٹر وسیم مشتاق، یونیورسٹی فائن آرٹس کلب کے صدر، شعبۂ انگریزی کے ڈاکٹر محمد شرجیل چودھری، یونیورسٹی ڈرامہ کلب کے صدر، شعبۂ سماجی کام کی ڈاکٹر قرۃ العین علی، یونیورسٹی لوک و روایتی موسیقی کلب کی صدر اور شعبۂ کامرس کے ڈاکٹر انور احمد سمیت مختلف اساتذہ نے طلبہ کی رہنمائی کی۔

پروگرام میں تمام کلبوں کے صدور، سرپرستوں، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

قومی یوتھ کانفرنس کے ذریعے تاریخ، علمی مباحث اور تخلیقی اظہار کو نوجوانوں پر مرکوز ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا۔ شہید باجی راؤت کی یاد کو مرکز میں رکھتے ہوئے طلبہ کو ان کی قربانی اور وراثت کو مختلف ذرائع سے سمجھنے کا موقع ملا۔ کانفرنس میں یہ پیغام دیا گیا کہ ماضی کو یاد کرنا محض خراجِ عقیدت تک محدود نہیں بلکہ باشعور، ذمہ دار اور سماجی طور پر حساس شہریوں کی تشکیل کا ذریعہ بھی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande