
ڈاکٹر حبیب سیفی ان زندہ دل قلمکاروں میں ہیں جو ادبِ اطفل میں ہمہ تن وقف رہتے ہیں: حافظ کرناٹکی
نئی دہلی ،02اکتوبر(ہ س )
سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف و ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ادیب حافظ کرناٹکی کے اعزاز میںفصیل بند شہر کے تاریخی عظیم ادبی مرکز شاہ ولی اللہ لائبریر ی املی پہاڑی ،چوڑی والان میں ادبی نشست منعقد ہوئی ،اور ڈاکٹر حبیب سیفی کی ادبِ اطفال پر مبنی تازہ تالیف کی رسم رونمائی عمل میں آئی ۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے کہا کہ میرے لےے یہ بے حد ذاتی خوشی کی بات ہے کہ دہلی دسیوں مرتبہ آنا ہوا لیکن کبھی بھی پرانی دہلی کی تنگ گلیوں میں انمول خزانوں تک رسائی نہیں ہو سکی ۔آج میں اپنے آپ کو خو قسمت سمجھ رہا ہوں کہ ایک تاریخی عظیم ادبی مرکز شاہ ولی اللہ لائبریر ی میں آنے کا موقع ملا،اس کے لےے میں آپ سب کا ذمہ داران کا شکر گزار ہوں،یہاں آنے کے بعد میری دلی خواہش ہوئی کہ آپ سب کی طرح میں بھی اس کاخادم بنوں،اس لےے لائبریری کا جزوی تعاون کرنا میرا بھی فرض بنتا ہے۔اسکے بعد ڈاکٹر حبیب سیفی کی18ویں تالیف’ اکیسویں صدی میں دہلی میں اردو ادبِ اطفال کاارتقاء‘ کی رسم رونمائی بدست حافظ کرناٹکی و دےگر مہمانان کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔کتاب کے رسم اجرا کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حبیب سیفی ان زندہ دل قلمکاروں میں ہیں جو ادبِ اطفل میں ہمہ تن وقف رہتے ہیں ۔ ملک میں بچوں کا ادب کس طرح کالکھاجارہا ہے اس کا جائزہ اس کتاب میںپیش کیا گیا ہے،تمام شریک مقالہ نگاروں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔حبیب سیفیکہانیاں بھی لکھتے ہیں،نظمیں بھی کہتے ہیں،پہیلیاں بھی کہتے ہیں،ساتھ ہی تحقیق و تاثراتی تنقید کاکام بھی انجام دےتے ہیں،جس کا بین ثبوت ان کی یہ تازہ کتاب ہے جو دستاویزی اہمےت کی حامل ہے،نیز اس کتاب میں جن قلمکاروں نے اپنی قلمی صلاحےت کااظہار کیا ہے وہ اپنے میدان میں یکتا اور نمایاں ہیں اس کے لےے میں ڈاکٹر حبیب سیفی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس سے قبل مہمان اعزای کی محمد تقی کے ذرےعے شال پوشی کی گئی اور لائبریری کی مطبوعات سے صاحب اعزاز کو نوازا گیا۔ تنظیم رضا قریشی کے ذرےعے شرکاءکو قرآن کریم کے قدیم ترین مخطوطہ، مع تصاویر شریمد بھگوت گےتا کا عکس مطبوعہ منشی نول کشور اور دےگر عہد زریں کی تحریروں سے واقفےت دلائی۔ طہٰ نسیم نے کہا اردو اکادمی دہلی کے تعاون سے گذشتہ برس مسلم اتحاد کمیٹی کے زیر اہتمام دوارکا کے نصےر پور میںمنعقد ہوئے سمینار کے مقالوں کی یہ کتاب جس کا طویل مقدمہ ڈاکٹر حبیب سیفی صاحب نے لکھا ہے دہلی کی ادب اطفال کی صورتحال کو بیان کرتی ہے،اس لےے اس کتاب کا مطالعہ کیا جانا چاہے۔ حبیب سیفی نے کہامیری خوش نصیبی ہے کہ حافظ کرناٹکی جیسی علمی مایہ ناز شخصےت کے ہاتھوں میری کتاب کی رسم اجرا ہوئی۔اس مبارکبا موقع پر بچوں کاادب تخلیق کرنے والوں میں، طہٰ نسیم،عرفان راہی،انجینئر ظریف احمد، ڈاکٹر امیر حمزہ ، محمد تقی، کے علاوہ ڈائیوا کے اراکین میں سکندر مرزا چنگیزی ،تنظیم رضا قریشی ، محمد شریف قریشی،حافظ عبد الماجد،ابو لالیث، ڈاکٹر عامر رضا، اور محمد راشد بنفس نفیس شریک ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ