اے ایم یو میں 12 روز سے بھوک ہڑتال، اب آر پار کے موڈ میں طلبہ، چیف الیکشن آفیسر مقرر کرنے، ایف آئی آر واپس لینے اور پراکٹر کے استعفیٰ کا مطالبہ
علی گڑھ, 02 اکتوبر (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے کو لے کر جاری بھوک ہڑتال جمعہ کو 12ویں روز بھی جاری رہی۔ دھرنے پر بیٹھے طلبہ رہنماؤں نے جمعہ کو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک انتظام
احتجاج


علی گڑھ, 02 اکتوبر (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے کو لے کر جاری بھوک ہڑتال جمعہ کو 12ویں روز بھی جاری رہی۔ دھرنے پر بیٹھے طلبہ رہنماؤں نے جمعہ کو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک انتظامیہ کی جانب سے بات چیت کے لیے کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔ طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا اولین مطالبہ طلبہ یونین انتخابات کے لیے چیف الیکشن آفیسر کی تقرری ہے۔ اس کے ساتھ ہی دھرنے کے دوران طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے اور معطل طالب علم یاسر فہد کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

طلبہ رہنما عاقب خورشید نے کہا کہ گزشتہ 12 روز سے طلبہ مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے بات چیت کے لیے کوئی پہل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی وعدہ کیے جانے کے بعد انتظامیہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی تھی، جس کی وجہ سے اب طلبہ کو انتظامیہ پر اعتماد نہیں رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کی آواز دبانے کے لیے باہر کے لوگوں کو لاکر طلبہ کے ساتھ مارپیٹ اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کے دھرنے کے تئیں تعاون پر مبنی رویے کا بھی ذکر کیا۔

عاقب خورشید نے کہا کہ آئندہ کی حکمت عملی جمعہ کی شام طے کی جائے گی۔ اس میں کلاسز اور ڈائننگ کے بائیکاٹ جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر طلبہ ایک دن کے کھانے کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔

وہیں طلبہ رہنما عدنان نے یاسر فہد کی بگڑتی ہوئی طبیعت کا حوالہ دیتے ہوئے پراکٹر آفس کی کارروائی کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے۔ ان کا الزام ہے کہ یاسر فہد کے خلاف عائد کیے گئے بعض الزامات اس مارچ سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے ایس ایس پی سے طلبہ کی جانب سے دی گئی تحریر پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

طلبہ رہنما ابو معاذ نے کہا کہ یاسر فہد کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور ان کے خلاف معطلی کی کارروائی کے احتجاج میں پراکٹر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے اور یاسر فہد کی معطلی ختم کیے جانے کے بعد ہی طلبہ انتظامیہ کے ساتھ ٹیبل ٹاک کے لیے تیار ہوں گے۔

طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ مطالبات پر انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande