
آگرہ، 2 اکتوبر(ہ س)۔ اتر پردیش کے اہم شہر آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے واقع ’گاندھی اسمارک‘ مہاتما گاندھی کے 11 روزہ قیام کی تاریخی یادوں کو آج بھی محفوظ کیے ہوئے ہے۔ سال 1929 میں گاندھی جی نے آگرہ میں قیام کے دوران اسی مقام کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا تھا۔ کئی دہائیوں سے نظرانداز اس تاریخی عمارت کے تحفظ اور اصل شکل بحال کرنے کی امید اب پیدا ہوئی ہے۔ ریاستی محکمہ آثار قدیمہ نے اس کے تحفظ اور تزئین و مرمت کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ منظوری ملتے ہی کام شروع کیے جانے کی توقع ہے۔
آگرہ کے جمنا کے کنارے برجموہن داس مہرا کی باغچی اب گاندھی اسمارک
آج گاندھی جینتی کے موقع پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کے آگرہ میں قیام اور آزادی کی لڑائی کو یاد کیا جارہا ہے۔ اسی آگرہ کی آتما دریائے جمنا کے کنارے اور ’بیبی تاج‘ کے نام سے مشہور اعتماد الدولہ کے قریب واقع یہ مقام پہلے برجموہن داس مہرا کی باغیچی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ستمبر 1929 میں آگرہ آمد کے دوران مہاتما گاندھی نے اسی باغیچی میں 11 دن قیام کیا۔ وہ 11 سے 21 ستمبر 1929 تک یہاں رہے اور باغیچی میں موجود چبوترے پر صبح و شام وقت گزارتے اور بھجن گاتے تھے۔
گاندھی جی کے قتل کے بعد 1948 میں برجموہن داس مہرا نے اپنے والد رام کرشن داس مہرا کی یاد میں یہ باغیچی مہاتما گاندھی اسمارک ٹرسٹ کو عطیہ کردی۔ ٹرسٹ نے بعد میں اسے گاندھی اسمارک اور میوزیم کا نام دیا۔ اس وقت اس کی دیکھ بھال میونسپل کارپوریشن کے ذریعے کی جاتی تھی۔
گاندھی اسمارک میں نصب یادگاری پتھر پر ان کے آگرہ قیام کی تفصیلات درج ہیں۔ اس کے مطابق گاندھی جی کے ساتھ ان کی اہلیہ کستوربا گاندھی، آچاریہ کرپلانی، میرا بہن اور پربھاوتی بھی یہاں قیام پذیر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے باغیچی کے اندر موجود کنویں کا پانی استعمال کیا اور صحت یابی کے لیے یہاں قیام کیا تھا۔
سال 1955 میں گاندھی جینتی کے موقع پر ٹرسٹ کی نگرانی میں اس عمارت میں میونسپل خواتین ڈسپنسری، آیورویدک ڈسپنسری اور زچہ و بچہ فلاحی مرکز بھی قائم کیے گئے تھے۔
گاندھی وادی نظریے سے وابستہ بزرگوں کے مطابق 1929 کے آگرہ قیام کے دوران گاندھی جی نے ہیوٹ پارک، جو اب پالیوال پارک کہلاتا ہے، اور آگرہ کالج میں عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا تھا۔
اس سے قبل بھی گاندھی جی آگرہ آچکے تھے۔ سال 1917 میں وہ ایک دن کے لیے ایودھیا ناتھ کنجرو کی رہائش گاہ پر ٹھہرے تھے اور یہاں ایک جلسے سے خطاب کیا تھا۔ اس کے بعد 27 نومبر 1920 کو وہ دوبارہ آگرہ آئے اور بیلن گنج میں وکیل گردھاری لال کے یہاں قیام کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کو آزادی کی جدوجہد کے لیے ترغیب دی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ 200 سال سے زیادہ پرانی اس عمارت کی حالت خراب ہوتی گئی۔ اگرچہ 2015-16 میں آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے ڈی اے) نے یہاں مرمت اور تزئین کا کام کرایا تھا، لیکن اس تاریخی مقام کو مسلسل مناسب توجہ نہیں مل سکی۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ اس مقام کو صرف ’باغیچی‘ کے نام سے جانتے ہیں اور انہیں اس کے گاندھی جی سے تاریخی تعلق کی مکمل معلومات نہیں ہے۔ ان کے مطابق 2 اکتوبر اور 30 جنوری کو سماجی کارکن اور دیگر افراد یہاں پہنچتے ہیں، لیکن سال کے بیشتر دن یہ مقام نظرانداز رہتا ہے۔
مقامی رہائشی دنیش کمار نے کہا کہ گاندھی جی کی یادوں سے وابستہ انتہائی اہم تاریخی عمارت ہونے کے باوجود آگرہ میونسپل کارپوریشن، آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ آثار قدیمہ کے درمیان ذمہ داری کے معاملے نے اس کی مناسب دیکھ بھال کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ٹرسٹ بھی اب فعال طور پر نظر نہیں آتا۔
2025 میں محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد ہوئی ذمہ داری
کچھ عرصے تک گاندھی اسمارک کی دیکھ بھال مہاتما گاندھی اسمارک ٹرسٹ کرتا رہا۔ بعد میں اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ذمہ داری آگرہ میونسپل کارپوریشن کو منتقل ہوگئی۔ سال 2025 میں ریاستی محکمہ آثار قدیمہ نے اس کے تحفظ اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لی اور اس سلسلے میں تحفظ کی اطلاع جاری کی گئی۔
ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے علاقائی افسر گیانیندر راستوگی نے بتایا کہ 2025 سے گاندھی اسمارک آگرہ میونسپل کارپوریشن سے منتقل ہوکر محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں آچکا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے محکمہ کو اس کی چابی بھی سونپ دی ہے۔
گیانیندر راستوگی کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ نے گاندھی اسمارک کے تحفظ کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کا تخمینہ تیار کیا ہے۔ منصوبے کے تحت عمارت کو اس کی اصل تاریخی شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ عمارت پر ٹائلز لگانے اور ریت کے پلستر سمیت بعض ایسے کام کیے گئے ہیں جن سے اس کی اصل ساخت اور ظاہری شکل متاثر ہوئی ہے۔ تحفظ کے منصوبے میں ان تبدیلیوں کو درست کرتے ہوئے عمارت کو ممکنہ حد تک اس کی اصل حالت میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسمارک کے چاروں باغات کو بھی ترقی دے کر خوبصورت بنایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan