
ممبئی، 14 اکتوبر (ہ س)۔
معروف فلم ساز ایکتا کپور نے بالی ووڈ میں مذہبی شناخت اور ہندو روایات کے حوالے سے ہونے والے ردعمل پر اپنی بات رکھی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مغربی روایات کو آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے، لیکن ہندو رسم و رواج اور مذہبی داستانوں پر کئی بار اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ اپنی فلم ’دی ون‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی لوک کہانیوں اور مذہبی داستانوں پر کھل کر بات کرنے میں آخر اتنی جھجک کیوں محسوس کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، ان کہانیوں کو بھی تفریح اور تخلیقی اظہار کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
ایکتا کپور نے بچپن کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تلک لگانے اور دھاگا پہننے پر انہیں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور کئی بار ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مذہب اور مذہبی شناخت کو عوامی طور پر ظاہر کرنا ان کے لیے ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ان کے مطابق، تلک لگانا یا اپنی مذہبی روایات پر عمل کرنا بھی کبھی کبھی بحث اور تنقید کا موضوع بن جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کسی شخص کو اپنے عقیدے کا اظہار کرنے میں جھجک کیوں محسوس ہونی چاہیے؟
ایکتا کپور نے ایک ایسے واقعے کا بھی ذکر کیا، جب مندر جانے کے بعد سیدھے کلب جانے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے بیان کا اہم پہلو مذہبی عقیدے اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن کے حوالے سے معاشرے کی سوچ تھا۔انہوں نے ہندو روایات اور ہندوستانی لوک کہانیوں پر گفتگو کرتے وقت ہونے والی جھجک پر بھی سوال اٹھائے۔ ایکتا کپور کے ان بیانات کے بعد مذہبی شناخت، تفریحی دنیا اور ہندوستانی ثقافتی روایات کے حوالے سے بحث ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan