علی رضا خان اسٹڈی سینٹر کا افتتاح، جانی فاسٹر کو شفق امام میموریل ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا
علی گڑھ ،11 اکتوبر (ہ س) علی گڑھ کی معروف سماجی تنظیم سٹیزن سوسائٹی کے زیر اہتمام شہر کی قدیم بستی اوپرکوٹ محمد علی روڈ امتیاز مارکیٹ میں علی رضا خان اسٹڈی سینٹر کا افتتاح عمل میں آیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اردو اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر زبیر
افتتاح


علی گڑھ ،11 اکتوبر (ہ س)

علی گڑھ کی معروف سماجی تنظیم سٹیزن سوسائٹی کے زیر اہتمام شہر کی قدیم بستی اوپرکوٹ محمد علی روڈ امتیاز مارکیٹ میں علی رضا خان اسٹڈی سینٹر کا افتتاح عمل میں آیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اردو اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر زبیر شاداب نے اس سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تعلیم کے فروغ، طلبہ کی رہنمائی، مقابلہ جاتی امتحانات اور سول سروسز کی تیاری کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ اردو ادب اور تہذیب کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ پروگرام کے تحت محفل مشاعرہ بھی منعقد ہوئی، جس میں معروف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔

پروگرام کی صدارت آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری پروفیسر رضا اللہ خان نے کی، جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے علی گڑھ کے سابق میئر اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے نائب صدر محمد فرقان موجود رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر عمر سلیم پیرزادہ نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر سٹیزن سوسائٹی کی جانب سے علی گڑھ کے معروف شاعر جونی فاسٹر کو شفق امام میموریل ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔ پروگرام کے منتظم محمد احمد شیون نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر ڈاکٹر مجیب شہزر نے انجام دیے۔

پروفیسر زبیر شاداب نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کسی بھی شہر کی قدیم بستیاں محض گلیوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس شہر کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور سماجی زندگی کی حقیقی عکاس ہوتی ہیں۔ ان بستیوں میں کئی نسلوں کی یادیں اور تہذیبی ورثہ محفوظ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان علاقوں کی تاریخی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں تعلیم اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ علی گڑھ کی شناخت علم و تعلیم کی روایت سے وابستہ ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام اور اس کی ترقی میں مقامی لوگوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اوپرکوٹ جیسے قدیم علاقوں کا بھی شہر کی سماجی، ثقافتی اور تعلیمی تاریخ میں اہم مقام ہے۔ ایسے علاقوں میں تعلیمی سہولیات اور مطالعے کے مراکز قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروفیسر زبیر شاداب نے علی رضا خان اسٹڈی سینٹر کے قیام کو قابل ستائش قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مراکز طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات اور سول سروسز کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے نئی نسل اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپرکوٹ میں اس سمت میں کیا جانے والا کام قابل تعریف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسٹڈی سینٹر کے تعلق سے کچھ ایسے پروجیکٹ شروع کرنے کی بھی کوشش کریں گے جن سے مستقبل میں علاقے کے طلبہ اور عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔

مہمان خصوصی محمد فرقان نے کہا کہ قدیم شہر اوپرکوٹ علی گڑھ کی تاریخی اور تہذیبی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس علاقے میں اسٹڈی سینٹر کا قیام ایک قابل ستائش پہل ہے۔ کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے تعلیم سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں مطالعے، رہنمائی اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کی سہولتیں حاصل ہوں تو وہ بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیموں کو تعلیم کے شعبے میں آگے آکر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ معاشی اور تعلیمی طور پر کمزور طلبہ کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔پروفیسر رضا اللہ خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ پرانے شہر کے علاقوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری وسائل مہیا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ علی رضا خان اسٹڈی سینٹر جیسے ادارے طلبہ میں تعلیم کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے اور انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایسے اقدامات میں اجتماعی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

مہمانِ اعزازی عمر سلیم پیرزادہ نے کہا کہ تعلیم اور ادب معاشرے کی فکری ترقی کے دو اہم ستون ہیں۔ اسٹڈی سینٹر طلبہ میں مطالعے کی عادت، خود اعتمادی اور مثبت سوچ پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے علی رضا خان اسٹڈی سینٹر کے قیام کو ایک مثبت اور قابل ستائش قدم قرار دیتے ہوئے منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے اپنی جانب سے اسٹڈی سینٹر کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور فوری طور پر 25 بچوں کو اسکالرشپ دینے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے اس اعلان کو طلبہ کی تعلیمی معاونت کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔پروگرام کے منتظم محمد احمد شیون نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ علی رضا خان اسٹڈی سینٹر قائم کرنے کا مقصد علاقے کے طلبہ کو تعلیم کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنا اور انہیں اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے حوصلہ دینا ہے۔ اوپرکوٹ جیسے قدیم علاقے میں ایسے مرکز کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ سٹیزن سوسائٹی کی کوشش ہے کہ تعلیم اور ادب کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جائے اور نئی نسل کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

معروف شاعر اور نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر مجیب شہزر نے کہا کہ موجودہ دور میں اس طرح کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ یہ تعلیم، ادب اور سماجی شعور کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو شاعری سماج کے مختلف پہلوؤں کی ایسی ترجمانی کرتی ہے جس میں درست بات کو درست انداز میں کہنے کا ہنر موجود ہے۔ شاعری معاشرے کی خوبیوں، خامیوں، مسائل، جدوجہد اور امیدوں کو اس انداز میں پیش کرتی ہے جو براہ راست لوگوں کے دلوں تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفل مشاعرہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ نئی نسل کو اردو زبان، ادب اور تہذیبی ورثے سے جوڑنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔

محفل مشاعرہ میں پروفیسر سرور ساجد، جونی فاسٹر، ڈاکٹر اویس جمال شمسی، بابر الیاس، جاوید اختر وارثی، سید مشرف حسین محضر، نسیم نوری، ڈاکٹر کمال احمد مجیبی، نصیر نادان، مضطر جلیسری، سرور پٹیالوی، معراج حسن نشاط، فراز مجیب، ڈاکٹر مجیب شہزر، کاظم رضوی، ارمان خان اور ہاشم رضا سمیت دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء کے کلام کو سامعین نے خوب سراہا اور مختلف اشعار پر داد و تحسین سے محفل کو ادبی رنگ عطا کیا۔

اس موقع پر معروف شاعر جونی فاسٹر کو شفق امام میموریل ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔ اس اعزاز کے ذریعے ان کی ادبی اور شعری خدمات کی پذیرائی کی گئی۔

پروگرام میں انجینئر فیروز احمد، ڈاکٹر عارف علی خان، محمد قمر عالم، ابتسام احمد، مکرم علی صدیقی، ڈاکٹر شاہد علی، مطیع الغفار ، شفیع احمد خان، دلشاد احمد، ذیشان احمد، مظاہر نعیم، محمد مظفر، ضیاء الحق، فرحان محمد خان، مفتی محمد راشد، مجیب الرحمن، اسد یار خاں، ڈاکٹر کنور ععارف علی خان، مولانا مجیب، افتخار عالم، ڈاکٹر افضال احمد، نظر علی، ڈاکٹر شاہد صدیقی، چودھری ربانی، انظار صابری، ایم خورشید خان، عمران انصاری، ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی، عاطف زمان خان، حسن خالد، حافظ صابر، پرویز احمد، حاجی محمد سفیان، ارشاد فریدی، ڈاکٹر عبید اقبال عاصم، غیاث الدین اور ڈاکٹر مدثر علی سمیت متعدد معززین موجود رہے۔

پروگرام کا بنیادی مقصد اوپرکوٹ جیسے قدیم علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینا، طلبہ کے لیے مطالعے اور رہنمائی کے مواقع پیدا کرنا اور اردو زبان و ادب کی روایت کو نئی نسل تک پہنچانا تھا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ علی رضا خان اسٹڈی سینٹر علاقے کے طلبہ کی تعلیمی رہنمائی اور ان کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande