اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جلسہ تقسیمِ انعامات کتب کا انعقاد
23 کتابوں کو انعامات سے نوازا گیا، غزل اور صوفیانہ موسیقی کی محفل نے سامعین کو محظوظ کیانئی دہلی،10 اکتوبر(ہ س)۔ اردو اکادمی، دہلی، محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے زیرِ اہتمام 9 اکتوبر 2026 بروز جمعہ سی پی او بلڈنگ، کشمیری گیٹ، دہلی میں جلس
اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جلسہ تقسیمِ انعامات کتب کا انعقاد


23 کتابوں کو انعامات سے نوازا گیا، غزل اور صوفیانہ موسیقی کی محفل نے سامعین کو محظوظ کیانئی دہلی،10 اکتوبر(ہ س)۔ اردو اکادمی، دہلی، محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے زیرِ اہتمام 9 اکتوبر 2026 بروز جمعہ سی پی او بلڈنگ، کشمیری گیٹ، دہلی میں جلسہ تقسیمِ انعامات کتب منعقد ہوا۔ اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹرڈاکٹر شمس اقبال نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز غزل کی ایک خوبصورت محفل سے ہوا، جس میں پٹیالہ گھرانے کے معروف غزل گلوکار پنڈت دھننجے کول نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزل اور صوفیانہ کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ انھوں نے اپنی پیشکش کا آغاز احمد فراز کی معروف غزل ”رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ“ سے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے کئی مشہور نغمے پیش کیے، جن سے محفل میں موسیقی اور شاعری کی دلکش فضا قائم ہوگئی اور سامعین نے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو خوب سراہا۔

محفلِ غزل کے اختتام پر جلسہ تقسیمِ انعامات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس موقع پر اسپیشل سکریٹری محکمہ فن، ثقافت و السنہ اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد شمس اقبال کا پودا پیش کرکے پرتپاک استقبال کیا۔ڈاکٹرشمس اقبال نے اپنے خطاب میں اردو اکادمی ،دہلی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اکادمی نے انھیں اس تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا۔ انھوں نے اردو اکادمی کو پورے ہندوستان کی سب سے زیادہ سرگرم اور متحرک اکادمیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 36 برس سے دہلی میں مقیم ہیں اور اس عرصے میں انھوں نے اکادمی کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گورننگ کونسل موجود ہو یا نہ ہو اردو اکادمی عملہ اردو زبان سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کے جذبے کے تحت مسلسل ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ لگن اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے قابلِ قدر ہے۔انھوں نے قومی کونسل اور اردو اکادمی، دہلی کے درمیان اشتراک کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اداروں کو مل کر ایسی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کرنا چاہیے جو مستقبل میں ایک یادگار کی حیثیت اختیار کرلیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے پاس اپنے اپنے وسائل، تجربات اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو یکجا کرکے دہلی میں مشترکہ پروگرام منعقد کیے جائیں تو ان کے نتائج نہایت مثبت اور دور رس ہوسکتے ہیں۔

انعام یافتگان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے انھوں نے کتابوں پر انعامات دینے کے موجودہ نظام میں توسیع کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اردو اکادمی اس پروگرام کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے سماجی علوم اور دیگر علمی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کو بھی شامل کرسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف انعامات کی معنویت میں اضافہ ہوگا بلکہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوںگے۔انھوں نے کہا کہ کتاب کی تصنیف مصنف کی محنت، علمی کاوش اور تخلیقی صلاحیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لہٰذا مصنفین کی ان کوششوں کا اعتراف اور ان کی خدمات کی پذیرائی ضروری ہے۔ انعامات کے ذریعے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انھیں مزید معیاری کام کرنے کی تحریک ملتی ہے۔

اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ دہلی کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ فنکاروں، ادیبوں، شاعروں اور دیگر تخلیق کاروں کو ایسے پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرسکیں، اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور اپنی تخلیقات کو وسیع تر حلقے تک پہنچا سکیں۔انھوں نے کہا کہ حکومتِ دہلی کے محکمہ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کی اکادمیوں کو بھی فروغ دینے اور ان کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے ادبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، زبانوں کی ترقی اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا مقصد محض فن اور ادب کی پیشکش تک محدود نہیں، بلکہ ان کے ذریعے سماج میں محبت، بھائی چارے، مساوات اور فرقہ وارانہ ہم ا?ہنگی کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کی تخلیقات لوگوں تک مختلف خیالات اور تجربات پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے، باہمی احترام پیدا کرنے اور مل جل کر رہنے کے جذبے کو تقویت ملتی ہے۔انھوں نے کہا کہ زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ تمام فن کاروں اور اہلِ قلم کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی تخلیقات نہ صرف ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا اثر قائم کرسکیں۔

انعامات کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کتابوں کو انعامات دینے کے لیے باقاعدہ جیوری تشکیل دی جاتی ہے، جو موصول ہونے والی کتابوں کا جائزہ لیتی ہے اور انھیں مقررہ معیار کے مطابق پرکھتی ہے۔ اس جانچ کے بعد اکادمی کے طے شدہ اصولوں کے تحت کتابوں کو اول، دوم اور سوم زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اول زمرے میں منتخب کتاب کے لیے 15 ہزار روپے، دوم زمرے کے لیے 10 ہزار روپے اور سوم زمرے کے لیے 5 ہزار روپے کا انعام مقرر ہے۔ اس سال انعامات کے لیے مجموعی طور پر 23 کتابوں کا انتخاب کیا گیا، جن میں 11 کتابیں اول، 6 کتابیں دوم اور 6 کتابیں سوم زمرے میں شامل ہیں۔

اردو اکادمی کی جانب سے انعامات کے لیے منتخب کتابوں میں شاعری، تنقید، تحقیق، اردو صحافت، ادبی و تاریخی موضوعات، شخصیات کے علمی و تحقیقی مطالعے، سفرنامے، خاکے، ناول اور دیگر اصنافِ ادب سے متعلق تصانیف شامل ہیں۔ یہ انتخاب اردو زبان و ادب کے مختلف پہلوو?وں اور علمی و تخلیقی سرگرمیوں کے تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔تقریب میں جن مصنفین کو ان کی منتخب کتابوں پر نقد انعامات، اکادمی کا نشان اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ان میں 2023 کی کتابوں میں”اقبال، شاعر شعلہ نوا“(پروفیسر شمیم احمد)، ”کانسے کا سورج، سونے کا چاند“( جناب نسیم نقوی) اور”مولانا ابوالکلام آزاد: مدبر، مفکر اور معلم“ (ڈاکٹر واثق الخیر) شامل ہیں جبکہ 2024 کی کتابوں میں ”اقبال جہاں دوست(پروفیسر عبدالحق)، ”اردو شاعری کی تنقید“( پروفیسر ابوبکر عباد)،”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ان کے بانیان کا سیکولر کردار“( جناب خواجہ عبدالمنتقم)،”اردو صحافت کے روشن نقوش“ (ڈاکٹر منور حسن کمال)،”مناظر رقص کرتے ہیں“( جناب ناصر عزیز)،”خطاطی کی مختصر تاریخ“ (جناب محمد ذکیرالدین ذکی)،”اردو صحافت اور ادب: اداریے اور شذرات“(جناب حسن ضیا)، ”آشفتہ سری“( جناب رضوان لطیف خان)،”اردو تنقید: نقوش و نشانات“( ڈاکٹر عبدالباری قاسمی)، ”امور طبیعیہ پریکٹیکل“( پروفیسر اشہر قدیر)،”پیش نامے“( ڈاکٹر واحد نظیر)،”سنگ میل( جنابکا۔ ارشد ندیم)،”مولانا سید ابوالحسن علی ندوی: شخصیت اور تحریک کا علمی و تاریخی مطالعہ“( جناب شاہ عمران حسن)،”زندان“ (محترمہ پروین شغف)،”قلم کی رعنائیاں“ (حامد علی اختر)، ”بکھرے ہوئے پھول“( جناب عبدالسلام صدیقی)،” آسان پہیلیاں“ (جناب حبیب سیفی)،”خدا کے گھر کا بٹوارہ“ (جناب تاج الدین محمد)،”اڑتی ہے میری خاک“ (جاوید احمد صدیقی) اور”کہکشاں“ (جناب نورالعین قیصر قاسمی) شامل رہیں۔

تقریب میں شیخ علیم الدین اسعدی، ڈاکٹر خالد رضا خان، جناب معین شاداب، ڈاکٹر شعیب رضا خان وارثی، پروفیسر احمد امتیاز، جناب اطہر سعید، جناب منیر ہمدم، جناب عبدالصمد، ڈاکٹر شمیم اختر، ڈاکٹر خان محمد رضوان، ڈاکٹر شاداب شمیم، ڈاکٹر حبیب الرحمٰن ،جناب سرفراز احمد فرازاور جناب فرید احمد فرید کے علاوہ بڑی تعداد میں ادبا، شعرا اور اسکالرز نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande