ہریانہ میں 70 فیصد دھان کی خریداری نہیں ہوئی: بھوپیندر سنگھ ہڈا
400 روپے فی کوئنٹل کم قیمت پر دھان فروخت کرنے پر مجبور کسان باجرے کی فصل بھی 800 سے 900 روپے فی کوئنٹل کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، سرکاری خریداری ندارد چنڈی گڑھ، 10 اکتوبر (ہ س)۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف بھوپیندر سنگھ ہڈا ن
ہریانہ میں 70 فیصد دھان کی خریداری نہیں ہوئی: بھوپیندر سنگھ ہڈا


400 روپے فی کوئنٹل کم قیمت پر دھان فروخت کرنے پر مجبور کسان

باجرے کی فصل بھی 800 سے 900 روپے فی کوئنٹل کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، سرکاری خریداری ندارد

چنڈی گڑھ، 10 اکتوبر (ہ س)۔

ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا ہے کہ منڈیوں میں دھان کی خریداری نہیں ہو رہی ہے۔ دھان کی آمد 12 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے، لیکن حکومت نے اب تک صرف 30 فیصد فصل خریدی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 70 فیصد کسان اب بھی سرکاری خریداری کے منتظر ہیں۔ یہی نہیں، جو دھان خریدا جا چکا ہے، اس میں سے بھی صرف 17 فیصد فصل ہی منڈیوں سے اٹھائی گئی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ منڈیوں میں اب نئی فصل رکھنے کے لیے جگہ بھی باقی نہیں بچی ہے۔

ہفتے کے روز چنڈی گڑھ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہڈا نے کہا کہ حکومت دھان خریدنا ہی نہیں چاہتی، اسی لیے کسانوں کو مختلف پیچیدگیوں میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔ پہلے پورٹل، پھر تصدیق اور اس کے بعد گیٹ پاس، کیپنگ اور حد بندی جیسے مسائل کھڑے کیے گئے۔ صورت حال یہ ہے کہ صرف دھان کی تصدیق کے معاملے میں ساڑھے چار لاکھ ایکڑ کا فرق سامنے آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین لاکھ ایکڑ رقبے میں پیدا ہونے والے موٹے دھان کی تصدیق، باسمتی کے 80 ہزار ایکڑ، کپاس کے 1.71 لاکھ ایکڑ، باجرے کے 3.49 لاکھ ایکڑ اور گنے کے 31 ہزار ایکڑ رقبے کی تصدیق اب بھی زیر التوا ہے۔

ہڈا نے کہا کہ انہوں نے ریاست کی کئی منڈیوں کا دورہ کیا ہے۔ کسانوں نے خود انہیں بتایا کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) نہ ملنے کے باعث انہیں اپنا دھان فی کوئنٹل 400 روپے تک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ باجرہ فی کوئنٹل 800 سے 900 روپے کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے انتخابات کے دوران اعلان کیا تھا کہ حکومت دھان 3100 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے خریدے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کسانوں کو دھان کی 2441 روپے فی کوئنٹل کی مقررہ ایم ایس پی بھی نہیں مل رہی ہے۔

ہڈا کے مطابق مونگ کی ایم ایس پی 8780 روپے فی کوئنٹل ہے، لیکن خریداری نہ ہونے کے باعث کسانوں کو فی کوئنٹل 1500 سے 1600 روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح باجرے کے کسانوں کے لیے بھی کاغذوں میں ایم ایس پی 2900 روپے فی کوئنٹل مقرر ہے، لیکن انہیں اپنی پیداوار تقریباً 2000 روپے فی کوئنٹل میں فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس طرح انہیں فی کوئنٹل تقریباً 900 روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ بی جے پی ہریانہ میں 24 فصلوں پر ایم ایس پی دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ کیا حکومت ان 24 فصلوں کے نام بتا سکتی ہے جو ہریانہ میں پیدا ہوتی ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک وائٹ پیپر جاری کرکے بتائے کہ ریاست میں کتنی فصلوں پر حقیقتاً ایم ایس پی دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande