
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہفتہ کے روز دہلی میں وکلا نے بھی زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران کئی سینئر اور خاتون وکلا کو گرفتار کرلیا گیا۔ وکلا کی گرفتاری پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور آل انڈیا لائرز یونین نے سخت اعتراض کیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے دہلی پولیس کو گرفتار وکلا کو رہا کرنے کی ہدایت دی۔ سی جے آئی کے حکم کے بعد تمام وکلا کو یمنا اسپورٹس کمپلیکس میں تقریباً دو گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق، سپریم کورٹ اور پٹیالہ ہاوس کورٹ میں وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) غیر قانونی طریقے سے نافذ کی گئی ہے اور اس کے ذریعے جائز ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے قریب جمع وکلا نے دہلی پولیس کی ابتدائی دو بیریکیڈنگ عبور کرلی اور منڈی ہاو¿س کے قریب تیسرے بیریکیڈ تک پہنچ گئے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکا مکی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے وکلا کو حراست میں لے لیا۔ انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر مشرقی دہلی کے یمنا اسپورٹس کمپلیکس لے جایا گیا۔دوسری جانب، پٹیالہ ہاو¿س کورٹ میں بھی دہلی بار کونسل کے ارکان محمود پراچہ اور رمن شرما کی قیادت میں وکلا نے احتجاج کیا۔ یہاں مظاہرہ کرنے والے وکلا کو بھی حراست میں لے کر یمنا اسپورٹس کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔یمنا اسپورٹس کمپلیکس میں وکلا کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی کڑکڑڈوما کورٹ کے وکلا بھی وہاں پہنچ گئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ رپورٹ کے مطابق، اس احتجاج کے بعد مجموعی طور پر 300 سے زائد وکلا کو حراست میں لیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد تمام زیرِ حراست وکلا کی رہائی عمل میں آئی۔ مظاہرین کا احتجاج انتخابی عمل اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف اپوزیشن کی جاری تحریک کا حصہ تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan