
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ ملک کی راجدھانی نئی دہلی کے یشوبھومی میں منعقدہ انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) 2026 کے دسویں تاریخی ایڈیشن کا ہفتہ کے روز اختتام ہوگیا۔ چار روزہ اس پروگرام میں ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ترقی، بین الاقوامی تعاون اور اختراعات سے متعلق اہم مباحث ہوئے، جن سے عالمی ڈیجیٹل میدان میں ہندوستان کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔
اس سال کانگریس کا موضوع ”بغیر سرحدوں کے توسیع“ تھا۔ اختتامی دن زراعت اور غذائی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال، نوجوانوں کی قیادت میں روبوٹکس، خودکار 5جی اے آئی ایجنٹس اور دیہی علاقوں تک ڈیجیٹل خدمات پہنچانے جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کانگریس کا افتتاح کیا تھا، جبکہ مواصلات کے مرکزی وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا نے عالمی 6جی پیٹنٹس میں ہندوستان کی 10 فیصد حصہ داری حاصل کرنے کے ہدف کو اجاگر کیا۔ اس ایڈیشن نے ٹیکنالوجی کے صارف سے آگے بڑھ کر عالمی ٹیلی کام معیارات تیار کرنے والے ملک کے طور پر ہندوستان کے عزم کو نمایاں کیا۔آئی ایم سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر رام کرشن پی نے کہا کہ اس پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کی ڈیجیٹل ترقی اب صرف نئی خدمات شروع کرنے اور انہیں بڑے پیمانے پر پھیلانے تک محدود نہیں، بلکہ اپنی ٹیکنالوجی تیار کرنے، بین الاقوامی معیارات وضع کرنے اور عملی اختراعات کو فروغ دینے پر بھی مرکوز ہے۔اختتامی دن انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے اشتراک سے ”زرعی و غذائی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت“ پر عالمی اجلاس منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ”روبوٹکس فار گڈ یوتھ چیلنج انڈیا“ کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی ٹی یو، آئی آئی ٹی دہلی کے آئی ہب فاونڈیشن فار کوبوٹکس اور محکمہ مواصلات نے تعاون کیا۔آئی ٹی یو کے عہدیدار ڈاکٹر بلال جیموسی نے کہا کہ زراعت میں اے آئی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس سے چھوٹے کسانوں کے حقیقی مسائل حل ہوں۔ انہوں نے حکومتوں، صنعتوں، محققین اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون اور بین الاقوامی معیارات کی اہمیت پر زور دیا۔محکمہ مواصلات کے سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سید توصیف عباس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے حل شفاف، محفوظ اور سب کے لیے قابل رسائی ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ کسانوں کی رازداری، ڈیٹا کے معیار اور زرعی پیداوار میں بہتری کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔پروگرام میں 5جی نیٹ ورک کے لیے خودکار اے آئی ایجنٹس کی نمائش، سائبر سکیورٹی سے متعلق سرگرمیوں اور دیہی علاقوں میں براڈبینڈ کی توسیع پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل رابطے کو ہر گرام پنچایت تک پہنچا کر دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جائے۔کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت، مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہندوستان میں خود کفیل، جامع اور پائیدار ٹیکنالوجی نظام کو فروغ دیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan