
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔
احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے احتیاطی اقدامات کیے جانے کے درمیان لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت چاہے کتنی ہی پولیس تعینات کر لے یا رہنماو¿ں اور نوجوانوں کو حراست میں لے لے، لیکن اپوزیشن پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ تمام افراد آہستہ آہستہ سیاسی اور جمہوری دباو¿ کے گھیرے میں آتے جا رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا، ”وزیر اعظم مودی، آپ جو چاہیں کر لیجیے۔ جتنی پولیس بلانی ہے بلا لیجیے۔ تمام رہنماو¿ں، نوجوانوں اور ہم سب کو گرفتار کر لیجیے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔“
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے پاس ضروری معلومات موجود ہیں اور وہ ملک کے آئین اور عوام کی آواز کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین پر حملہ کرنے والی طاقتوں کو شکست ہو۔
راہل گاندھی کا یہ بیان دہلی میں چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف جاری احتجاج اور اپوزیشن رہنماو¿ں و کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کے درمیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران جمہوری اداروں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے، اسے مستقبل میں دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے تحریک کو مزید تیز کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ