
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ بھارت کے الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور دیگر تنظیموں کا احتجاج آج قومی راجدھانی کے جنتر منتر پر مجوزہ ہے۔ دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ جنتر منتر پہنچنے لگے ہیں۔ سی جے پی اور دیگر تنظیموں کے اہم مطالبات میں کمار کا استعفیٰ، ان کے خلاف فوجداری کارروائی، اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) پر روک، جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ کی بحالی، آزادانہ جانچ اور 2023 کے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون کو منسوخ کرنا شامل ہے۔
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 163 نافذ کر دی ہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دہلی میٹرو کی تاریخ میں پہلی بار 57 میٹرو اسٹیشن جمعہ کی رات 9 بجے سے آج صورت حال معمول پر آنے تک بند کر دیے گئے ہیں۔ سرائے کالے خان اور نیو اشوک نگر نمو بھارت اسٹیشن بھی جمعہ کی رات 9 بجے سے آج رات 10 بجے تک بند رہیں گے۔
اس دوران آنند وہار سے مودی پورم کے درمیان نمو بھارت ٹرین سروس مقررہ وقت کے مطابق چلتی رہے گی۔ دہلی پولیس اب تک 200 لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے سرگرم حامی ہیں۔ اس احتجاج کے پیش نظر جمعہ کی دوپہر 2 بجے کے بعد نئی دہلی، حضرت نظام الدین اور تلک برج ریلوے اسٹیشنوں سے چلنے والی تمام ٹرینیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ آج صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ان اسٹیشنوں پر آنے والی ٹرینیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ آج راجدھانی، شتابدی اور وندے بھارت سمیت 224 سے زیادہ ٹرینیں منسوخ رہیں گی۔ ان میں 179 لوکل ٹرینیں شامل ہیں۔ نئی دہلی ضلع میں جن پتھ اور کرتویہ پتھ سے چار کلومیٹر کے دائرے میں انٹرنیٹ خدمات بھی جمعہ کی رات 10 بجے سے 24 گھنٹے کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
دہلی پولیس نے جمعہ کی رات واضح کیا کہ سی جے پی کے حامیوں کو دہلی میں کہیں بھی احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ سی جے پی کے حامیوں کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشنوں یا پڑوسی ریاستوں کی سرحدوں سے نجی گاڑیوں کے ذریعے دہلی میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں 35 حراستی مراکز میں بھیج دیا جائے گا۔ جوائنٹ کمشنر (نئی دہلی رینج) نوپور پرساد نے بتایا کہ سی جے پی کے سوربھ داس نے 7 اکتوبر کو 10 اکتوبر کے احتجاج کی اجازت مانگی تھی۔ ضابطوں کے مطابق، احتجاج کے لیے تقریباً 10 دن پہلے درخواست دینا لازمی ہوتا ہے، لیکن درخواست مقررہ وقت پر نہیں دی گئی۔
اس دوران پوری دہلی، خاص طور پر نئی دہلی ضلع میں دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے۔ جنتر منتر کی طرف آنے والی تمام سڑکوں پر مضبوط بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ بی ایس ایف، سی آر پی ایف سمیت دہلی پولیس کے 35 ہزار سے زیادہ اہلکاروں کے ساتھ ساتھ وجرا گاڑیاں اور واٹر کینن بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پہنچنے سے پہلے ممبئی میں کہا کہ دہلی میں سکیورٹی سخت کیے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت نوجوانوں، یعنی جنریشن زی (جین زی)، سے خوف زدہ ہے۔
احتجاج کے باعث دہلی میٹرو اور آمدورفت کے دیگر ذرائع پر عائد پابندیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو اہم تبصرہ کیا۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مرکز سے کہا کہ مسافروں کو پریشانی نہ ہو، اس کے لیے خدمات کو منظم طریقے سے جاری رہنے دیا جائے۔ بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ حکومت پُرامن احتجاج کے لیے جنتر منتر کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر بھی غور کرے۔
احتجاج کی اپیل کے پیش نظر دہلی پولیس نے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی کی ہے۔ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی سرحدوں پر خصوصی چوکسی برتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، سی جے پی کے احتجاج سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد میں شامل رہنماؤں نے صدر جمہوریہ کو ایک میمورنڈم سونپا۔ اس پر 16 سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے دستخط ہیں۔ اس دوران دہلی پولیس نے کانگریس رہنما دیپیندر سنگھ ہڈا یا کسی دوسرے رہنما کو نظر بند کیے جانے کے دعوؤں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پھیلائی جا رہی غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور ایسے دعوؤں کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے سکیورٹی کا سخت حصار تیار کیا گیا ہے۔ تقریباً پانچ کلومیٹر کے دائرے میں قلعہ بندی کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مرکز نے 221 کمپنیاں فراہم کی ہیں، جنہیں 12 اکتوبر تک سکیورٹی انتظامات سنبھالنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ اس وقت گروگرام، فرید آباد، پانی پت، غازی آباد اور نوئیڈا سے دہلی میں داخل ہونے والی تمام سرحدوں پر پولیس تعینات ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو دہلی پولیس کے ساتھ تال میل قائم رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے پولیس ڈائریکٹر جنرلز کو جاری خط میں کہا ہے کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی خفیہ ایجنسیوں، سرحدی آمدورفت کے حکام اور دہلی پولیس کے درمیان مسلسل اور حقیقی وقت میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔ داخلہ سکریٹری نے 2018 میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اجتماعات کو منظم کرنے والے طے شدہ ضابطوں پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد